تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 862

تذکار مہدی — Page 117

تذکار مهدی ) 6 117 روایات سید نا محمودی آ گیا اور پھر اپنے آپ کو گالیاں دیتا ہوا واپس آیا۔کسی دوست نے پوچھا کیا بات ہے؟ تو کہنے لگا اس لئے اپنے آپ کو بُرا بھلا کہہ رہا ہوں کہ حصہ کی خاطر نفس نے مجھے ایسی باتیں سننے پر مجبور کیا۔تو عادتوں کو چھوڑنا بڑا مشکل ہوتا ہے بعض لوگوں کو جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے انہیں لاکھ سمجھاؤ، کتنی نگرانی کرو مگر پھر بھی وہ ضرور جھوٹ بولیں گے ان کی اصلاح مشکل ہوتی ہے۔یہ نہیں کہ ہوتی نہیں کیونکہ اگر نہ ہو سکتی تو میں یہ خطبات ہی کیوں بیان کرتا مگر یہ کام ان کیلئے بڑا مشکل ہوتا ہے۔ایسے لوگ جب بات کرنے لگتے ہیں تو عادت کی وجہ سے ان کے دماغ میں ایک ایسی چمک پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بغیر جھوٹ کے بات کا مزا نہ ہم کو آئے گا اور نہ سننے والے کو۔پھر بعض لوگوں کو چسکے کی عادت ہوتی ہے اور اس عادت کی وجہ سے بعض لوگ بڑی بڑی بے غیرتیاں کرتے ہیں۔قادیان میں ایسے دس بارہ لڑکے ہیں جو دو دو چار چار پیسوں کے لئے احمدیوں کی جھوٹی سچی خبریں احراریوں کو جا کر دیتے ہیں۔انہیں مٹھائی کھانے کی عادت پڑی ہوئی ہے گھر سے پیسے مل نہیں سکتے اس لئے وہ خوامخواہ جھوٹی باتیں جا کر دشمنوں سے کہتے ہیں۔تو عادت ایسی چیز ہے کہ اس کی اصلاح کے لئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن عقیدہ میں عادت کا دخل نہیں ہوتا۔پس عقیدہ کے مقابل پر عمل کی اصلاح کو جو اسباب مشکل بنا دیتے ہیں ان میں سے ایک عادت بھی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا نہایت ضروری ہے۔خطبات محمود جلد 17 صفحہ 368-369 ) | حقہ پینے کی عادت اس زمانہ میں حقہ اور سگریٹ کا اس قدر رواج ہے کہ اکثر نو جوان بلکہ بچے بھی اس میں مبتلاء دیکھے جاتے ہیں مگر چونکہ یہ ایک نشہ آور چیز ہے اس لیئے رفتہ رفتہ وہ اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ اگر ضرورت محسوس ہونے پر انہیں حقہ یا سگرٹ یا نسوار نہ ملے تو وہ پاگلوں کی طرح دوڑے پھرتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہم ایک دفعہ پہاڑ پر جا رہے تھے تو میرے ساتھیوں میں ایک احمدی پٹھان بھی تھے جنہیں نسوار کھانے کی عادت تھی مگر بدقسمتی سے وہ اپنی ڈبیا گھر میں بھول آئے تھے۔راستہ میں ایک کشمیری مزدور آ رہا تھا جس نے اپنے کندھے پر لکڑیاں اٹھائی ہوئی تھیں وہ اُسے دیکھتے ہی نہایت لجاجت کے ساتھ کہنے لگے اے بھائی کشمیری! اے بھائی