تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 862

تذکار مہدی — Page 109

تذکار مهدی ) 109 روایات سید نا محمودی کوئی شخص آتا ہوا ملا میں نے اس سے پوچھا کہ کیا خطبہ شروع ہو گیا ہے؟ اس نے کہا وہاں تو جگہ ہی نہیں ساری مسجد بھری ہوئی ہے اس لیئے میں واپس آ گیا ہوں اس کی یہ بات سن کر میں بھی واپس آ گیا۔بچپن کی عمر تھی میں نے سمجھا کہ یہ جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہو گا حالانکہ میرا فرض تھا کہ میں پہلے تحقیق کرتا کہ آیا یہ بات درست ہے یا نہیں بہر حال اللہ تعالیٰ مجھے یہ سبق دینا چاہتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تجسس کرنے کی نہیں تھی مگر اس روز جب میں واپس آیا تو آپ نے خلاف معمول مجھ سے فرمایا کہ محمود! تم جمعہ میں نہیں گئے ؟ میں نے کہا وہاں تو اتنے آدمی ہیں کہ مسجد میں کوئی جگہ ہی نہیں اس لیئے میں واپس آ گیا ہوں اس وقت تو آپ خاموش رہے۔مگر جمعہ کے بعد جب آپ کی عیادت کے لئے کچھ دوست آئے جن میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بھی تھے جو خطبہ پڑھایا کرتے تھے تو آپ نے خلاف عادت ان کے آتے ہی یہ سوال کیا کہ کیا آج جمعہ میں کچھ زیادہ لوگ تھے؟ میں دوسرے دالان میں تھا کہ میرے کان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ آواز پڑی اور چونکہ میں خود مسجد میں نہیں گیا تھا اس لئے میرا دل بیٹھنے لگا کہ اس شخص نے جھوٹ نہ بولا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے میری پردہ پوشی فرمائی اور مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا کہ حضور! آج تو بہت ہی آدمی تھے مسجد کناروں تک بھری ہوئی تھی اب یہ سیدھی بات ہے کہ جو کچھ میں نے کیا محض قیاس کی وجہ سے کیا اسی طرح کئی لوگ قیاس کر لیتے ہیں اور اس سے زیادہ قیاس کر لیتے ہیں جتنی لوگوں کے لیئے واقع میں گنجائش نہیں ہوتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سی جگہ خالی رہتی ہے۔مجھے کہا گیا ہے کہ اگر باہر جگہ لی گئی تو یہ مسجد ویران ہو جائے گی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر دوسری مسجد کے لیئے باہر زمین نہ لی گئی تو اس مسجد کی حقیقی آبادی کی طرف جماعت کو کبھی توجہ ہی پیدا نہیں ہوگی اب اس مسجد کو جس کے ارد گرد صرف چند احمدی دوست رہتے ہیں۔اس لیے آباد سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کے دن سارے شہر کے احمدی دوست یہاں آکر ایک دفعہ نماز پڑھ لیتے ہیں اور کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا۔مگر یہ محلہ جس میں ابتدائی ایام سے احمدیت چلی آ رہی ہے اس محلہ میں اب احمدیت ترقی کرنے کی بجائے گر گئی ہے اور انہیں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ انہوں نے اس محلہ کو بالکل چھوڑ دیا ہے۔ہم بچے تھے اور لاہور میں آیا کرتے تھے تو اسی محلہ میں میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔