تذکار مہدی — Page 108
تذکار مهدی ) کارمهدی 108 روایات سید نا محمود وقت پیش آتی ہے۔تین آدمی مجھے ایسے معلوم ہیں جو نماز میں صحیح طور پر تشہد میں نہیں بیٹھ سکتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بچپن میں ان کو صحیح طور پر تشہد بیٹھنے کی مشق نہیں کرائی گئی یا کسی نے ان کو ٹوکا نہیں تا وہ صیح طور پر تشہد بیٹھنے کی عادت ڈالتے یا ٹوکنے والوں سے ان کا اس طرح بیٹھنا پوشیدہ رہا اور اب بڑی عمر میں وہ صحیح طور پر نہیں بیٹھ سکتے۔۔۔اگر اب وہ چاہیں اور کوشش بھی کریں تو صحیح طور پر تشہد نہیں بیٹھ سکتے۔تو بچپن کا زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ بچے کے اس وقت کے حالات کے ماتحت اس سے جس قسم کی مشق کرائیں وہ با آسانی کر سکتا ہے۔لیکن اگر بچپن میں جھوٹ یا چوری وغیرہ کی بد عادات پڑ جائیں۔تو بڑے ہو کر ان کو کتنے ہی وعظ و نصیحت کیئے جائیں۔کتنا ہی سمجھایا جائے اور کتنی ہی ملامت کی جائے۔لیکن وہ ان افعال کو برا سمجھتے ہوئے بھی ان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے ایسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور پھر روتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔چوری کرتے ہیں اور پھر افسوس کرتے ہیں کہ ہم سے ایسا ہوا ہے بلکہ میں نے دیکھا ہے انہوں نے خود ہی اپنی غلطی کو محسوس کر کے چوری کا اقرار کیا اور اس کا ازالہ بھی کر دیا۔لیکن پھر بھی چوری کی عادت سے باز نہیں رہ سکتے۔تو بچپن کی عادت انسان کے ساتھ جاتی اور باقی رہتی ہیں۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ۔اس لئے بچپن میں بچوں کو اخلاق فاضلہ کی مشق کرانی چاہیئے۔اس سے آئندہ نسلوں کی حفاظت ہو جائے گی یہ بچپن میں تربیت نہ ہونے کا نتیجہ ہے کہ کئی ایسے آدمی ہیں جو بہت مخلص اور نیک ہیں لیکن بے ساختہ ان کے منہ سے گالیاں نکل جاتی ہیں۔بعض مصنف ہیں جو مخلص ہیں لیکن باوجود احتیاط کے ان کے قلم سے درشت الفاظ نکل جاتے ہیں۔اور جب سمجھایا جائے تو نہایت سنجیدگی اور متانت سے کہہ دیتے ہیں ہم نے تو کوئی سخت لفظ نہیں لکھا۔بچپن کی عادت کا نتیجہ ہے کہ وہ اس فعل کی مضرتوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی اس سے بچ نہیں سکتے۔خطبات محمود جلد 9 صفحہ 150 تا 151) نماز جمعہ پر نہیں گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دریافت فرمایا:۔مجھے یاد ہے میرے بچپن کے زمانہ میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیمار ہو گئے اور آپ جمعہ کی نماز کے لئے تشریف نہ لے گئے میری عمر اس وقت 13-14 سال کی تھی۔میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے روانہ ہوا ابھی میں جاہی رہا تھا کہ راستہ میں مجھے