تذکار مہدی — Page 98
تذکار مهدی ) 98 روایات سیّد نا محمود لالہ شرمپت آریہ تھا لیکن رب العالمین خدا کے نزدیک ایک آریہ بھی ویسا ہی اس کا بندہ ہے جیسے ایک مسلمان۔اس نے خواب میں ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کو بتا دیا کہ لالہ شرمیت سے فیس نہ لینا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے ساتھیوں کو تنگ کرنے کے لئے مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین نے مسجد مبارک کے دروازہ کے سامنے دیوار کھینچوائی تو عدالت میں کئی سال تک مقدمہ چلتا رہا آخر اس مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور مقدمہ کے اخراجات جو چار پانچ سو روپیہ کے قریب تھے مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ پر ڈالے گئے جب ان کے خلاف حج نے ڈگری دی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام گورداسپور میں تھے آپ کو رویا میں دکھایا گیا کہ مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین مالی لحاظ سے بہت تنگ حالت میں ہیں آپ نے فوراً ایک آدمی گورداسپور سے قادیان بھجوایا اور ان سے کہا کہ میں تم سے روپیہ نہیں لوں گا۔اب دیکھو یہ سب کچھ رب العالمین خدا نے ہی کیا تھا۔ان لوگوں نے ساری عمر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ظلم کیئے اور ان میں سے ایک تو اتنا کٹر دہر یہ تھا کہ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مرزا امام الدین کے پیٹ میں درد ہوئی۔تو انہوں نے مجھے بلوایا۔میں جب گیا تو وہ کمرے میں لوٹ پوٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ہائے اماں! ہائے اماں! میں نے کہا۔مرزا صاحب آپ بوڑھے ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک آپ اماں اماں ہی کہتے ہیں۔خدا کو نہیں پکارتے۔کہنے لگا ماں کو تو میں نے دیکھا ہے اور اس کی مہر بانیوں کو بھی دیکھا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کو میں نے نہیں دیکھا۔پھر اس نے کہا۔مولوی صاحب میں بچپن سے ہی بڑا سلیم الفطرت تھا جب مسلمان لوگ مسجد میں جاتے اور چوتڑ اوپر کر کے اور سر نیچے کر کے سجدہ کرتے۔تو میں ان پر ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں کہ اتنی عمر کے ہو کر بھی ایسے خدا کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں جو انہیں نظر نہیں آرہا غرض ان لوگوں کی یہ حالت تھی۔مگر رب العالمین خدا نے ان کا بھی خیال رکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھایا کہ ان کی حالت خراب ہے انہیں معاف کر دو تو ہمارا خدا رب العالمین خدا ہے وہ ہر ایک کے لئے اپنی ربوبیت کا نمونہ دکھاتا ہے۔پرانے زمانہ میں بھی وہ رب العالمین تھا اور اس زمانہ میں بھی وہ رب العالمین ہے اور آئندہ زمانہ میں بھی وہ رب العالمین رہے۔الفضل جلد 48/13 نمبر 10 مورخہ 11 جنوری 1959 ءصفحہ 4-3)