تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 862

تذکار مہدی — Page 76

تذکار مهدی ) 76 روایات سید نا محمودی کی عمر میں یہ ایک بہت بڑا وقت ہے۔اس تمام عرصہ میں ابتدائے زمانہ سے ہی لا ہور کا ایک حصہ احمدیت کے ساتھ شامل رہا ہے۔ہم چھوٹے ہوتے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ساتھ سفروں میں ہم آتے جاتے تھے۔اس وقت عموماً جب آپ کو رستہ میں ٹھہرنا پڑتا۔تو لا ہور یا امرتسر میں ہی ٹھہرتے۔یوں ابتدائی زمانہ میں آپ کا قیام زیادہ تر لدھیانہ میں رہا ہے۔لیکن جماعت کے لحاظ سے لاہور کی جماعت ہمیشہ زیادہ رہی ہے اور دوسری جماعتوں کی نسبت زیادہ مستعد رہی ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے والد صاحب کے زمانہ میں مقدمات کے لیئے اکثر لاہور آتے تھے اور آپ کے والد صاحب کے تعلقات بھی زیادہ تر لاہور کے رؤسا تھے۔اس لئے ابتدائی ایام میں ہی یہاں ایک ایسی جماعت پائی جاتی تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اخلاص رکھتی تھی۔الہی بخش اکا ؤنٹنٹ جو بعد میں شدید مخالف ہو گئے۔وہ بھی یہیں کے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بعد میں کفر کا فتویٰ لگانے والوں کے سردار بنے وہ بھی یہیں چینیاں والی مسجد کے امام تھے۔اور ان کا زیادہ تر اثر اور رسوخ لاہور ہی میں تھا۔گو وہ رہنے والے بٹالہ کے تھے۔اسی طرح میاں چراغ دین میاں معراج دین صاحب اور میاں تاج دین صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت پرانے تعلقات تھے۔میاں چراغ دین صاحب اور میاں معراج دین صاحب کا خاندان اپنے پرانے تعلقات کی وجہ سے جو بیعت سے بھی پہلے کے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نگاہ میں بہت قربت رکھتا تھا۔پھر حکیم محمد حسین صاحب قریشی جنہوں نے دہلی دروازہ والی مسجد بنوائی ان کے تعلقات بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بہت قدیم اور مخلصانہ تھے۔میاں چراغ دین صاحب مرحوم کے تعلقات تو الہی بخش اکاؤنٹنٹ سے بھی پہلے کے تھے۔حتی کہ میرے عقیقہ میں جن دوستوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ان میں چراغ دین صاحب بھی تھے۔اتفاقاً اس دن سخت بارش ہو گئی۔وہ سناتے تھے کہ ہم باغ تک پہنچ مگر آگے پانی ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے۔اور وہیں سے ہمیں واپس لوٹنا پڑا۔پس اس جگہ کی جماعت کی بنیاد ایسے لوگوں سے پڑی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس وقت سے اخلاص رکھتے تھے جب آپ نے ابھی دعوئی بھی نہیں کیا تھا اور براہین لکھی جارہی تھی۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کے خاندانوں کو ترقی دی اور وہ اخلاص میں بڑھتے چلے گئے۔تاریخ احمدیت لا ہور صفحہ 18-17 ) |