تذکار مہدی — Page 75
تذکار مهدی ) 75 روایات سید نا محمود ملا کرتا تھا پھر عضدالدولہ کا خطاب حاصل تھا۔یعنی حکومت مغلیہ کا باز ومگر ہم نے کبھی گورنمنٹ کے سامنے ان کا غذات کو پیش نہیں کیا۔( الفضل 23 اکتوبر 1934 ء جلد 22 نمبر 50 صفحہ 3 | حکومت کی طرف سے اعزاز دینے کی پیشکش حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی کہا گیا اور دو دفعہ مجھے بھی کہلایا گیا کہ کیا حکومت اگر کوئی خطاب دے تو اسے قبول کر لیا جائے گا۔میں نے کہا اگر حکومت ایسا کرے گی تو وہ میری ہتک کرے گی۔ہمیں خدا تعالیٰ سے جو کچھ مل چکا ہے اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے اور اس سے بڑھ کر حکومت کیا دے سکتی ہے۔اپنے متعلق خطاب کا ذکر تو الگ رہا، اگر جماعت احمدیہ کا کوئی شخص بھی خطاب کے متعلق کچھ پوچھتا ہے تو میں اسے یہی کہتا ہوں کہ مجھے تو انسانی خطاب سے گھن آتی ہے۔احمدی کہلانے سے بڑا خطاب اور کیا ہوسکتا ہے۔حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات، انوار العلوم جلد 13 صفحہ 512) خاندان کی جنگی تاریخ ہمارے خاندان کی تاریخ جنگی تاریخ ہے اور اب بھی ہمارا فوج کے ساتھ تعلق ہے میں نے خود مرزا شریف احمد صاحب کو فوج میں داخل کرایا ہے اور اب ان کا لڑکا فوج میں شامل ہورہا ہے۔ہمارے تایا صاحب نے غدر کے موقعہ پر جنگ میں نمایاں حصہ لیا ہمارے دادا فوجی جرنیل تھے۔دتی کے بادشاہوں کی چٹھیاں ہمارے پاس محفوظ ہیں جن میں اس امر کا اعتراف ہے کہ ہمارا خاندان ہی تھا جس نے سکھوں کے زمانہ میں اسلام کی حفاظت کے لئے قربانیاں کیں۔الفضل 30 جولائی 1937 ء جلد 25 نمبر 175 صفحہ 8 ) جماعت احمد یہ لا ہور کا اخلاص ہماری جماعت کے دوستوں کو یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ احمدیت کو قائم ہوئے ایک لمبازمانہ گزر چکا ہے۔اگر براہین احمدیہ سے اس زمانہ کو لیا جائے۔تو 70-71 سال ہو گئے ہیں اور اگر بیعت کے آغاز سے اس زمانہ کو شمار کیا جائے تو پھر 65 سال ہو گئے ہیں اور یہ ایک بہت بڑا وقت ہے اور گوقوموں کی عمر کے لحاظ سے اتنے سال کوئی زیادہ لمبا زمانہ نہیں سمجھے جا سکتے۔لیکن انسانوں