تذکار مہدی — Page 56
تذکار مهدی ) 56 روایات سید نا محمود ملاقاتی آتا اور آپ اپنی بھا وجہ کو کھانے کے لئے کہلا بھیجتے تو وہ آگے سے کہہ دیتیں کہ وہ یونہی کھا پی رہا ہے کام کاج تو کوئی کرتا نہیں۔اس پر آپ اپنا کھانا اُس مہمان کو کھلا دیتے اور خود فاقہ کر لیتے یاچنے چبا کر گزارہ کر لیتے۔خدا کی قدرت ہے کہ وہی بھاوجہ جو اُس وقت آپ کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں بعد میں میرے ہاتھ پر احمدیت میں داخل ہوئیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی کام شروع کیا جاتا ہے تو اُس کی ابتداء بڑی نظر نہیں آیا کرتی لیکن اُس کی انتہاء پر دنیا حیران ہو جاتی ہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 102-101) والد صاحب کی غرباء کی خبر گیری حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ آپ کے والد صاحب کا قاعدہ تھا کہ ایک موسم میں خاص مقدار میں غرباء میں غلہ اور نقدی تقسیم کرتے ایک شخص بٹالے کا بھی آیا کرتا تھا اس کو آپ نے ایک دفعہ چنے اور کچھ پیسے دیئے وہ چنوں کا بڑا حصہ راستہ ہی میں ختم کر گیا حالانکہ جو کچھ اس کو ملا تھا وہ گھر کے لئے تھا۔(خطبات محمود جلد نمبر 7 صفحہ 97) قادیان کے دو ملا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ قادیان کے اندر دو ملا تھے جن میں بسا اوقات اس قسم کی باتوں پر جھگڑا ہو جایا کرتا تھا کہ کسی شخص کے مرنے پر اس کے کفن کی چادر کے متعلق ایک کہتا تھا کہ یہ میرا حق ہے اور دوسرا کہتا تھا کہ میرا حق ہے آپ فرماتے تھے کہ ہمارے والد صاحب نے ان جھگڑوں کو دیکھ کر قادیان کے دو حصے کر کے ان میں بانٹ دیئے تا کہ ان میں لڑائی نہ ہو مگر ان میں سے ایک ملا دو تین دن کے بعد روتا ہو ا والد صاحب کے پاس آیا۔والد صاحب نے پوچھا کیا بات ہے۔وہ چیخ مار کر کہنے لگا۔مرزا صاحب آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا۔والد صاحب نے پوچھا تمہارے ساتھ کیا بے انصافی ہوئی تو وہ اپنی پہچکی کو بند کرتے ہوئے کہنے لگا تساں جیہڑے آدمی میرے حصے وچ دتے نے اونہاں دا قد اتنا چھوٹا اے کہ اونہاں دے کفن دی چادر دی چنی بھی نہیں بن سکدی یعنی آپ نے میرے حصہ میں جن لوگوں کو رکھا ہے ان کا قد تو اتنا چھوٹا ہے کہ ان کے کفن کی چادر سے ایک چھوٹا سا دو پٹہ بھی نہیں بن سکتا۔اب اندازہ لگاؤ۔جہاں ملاؤں کے اخلاق اتنے پست ہوں وہاں ترقی کی کیا امید ہوسکتی ہے۔خطبات محمود جلد سوم صفحہ 626-625 )