تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 862

تذکار مہدی — Page 54

تذکار مهدی ) جائیداد سے لاتعلقی 54 روایات سید نا محمود جب آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے تو آپ نے تمام کاموں سے قطع تعلق کر لیا اور مطالعہ دین اور روزہ داری اور شب بیداری میں اوقات بسر کرنے لگے اور اخبارات ور سائل کے ذریعہ دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے رہے اس زمانہ میں لوگ ایک ایک پیسہ کے لئے لڑتے ہیں مگر آپ نے اپنی کل جائیداد اپنے بڑے بھائی صاحب کے سپرد کر دی۔آپ کے لئے کھانا ان کے گھر سے آجاتا اور جب وہ ضرورت سمجھتے کپڑے بنوا دیتے اور آپ نہ جائیداد کی آمدن کا حصہ لیتے اور نہ اس کا کوئی کام کرتے لوگوں کو نماز روزے کی تلقین کرتے تبلیغ اسلام کرتے ، غریبوں مسکینوں کی بھی خبر رکھتے اور تو آپ کے پاس اس وقت کچھ تھا نہیں بھائی کے یہاں سے جو کھانا آتا اسی کو غرباء میں بانٹ دیتے اور بعض دفعہ دو تین تولہ غذاء پر گزارہ کرتے اور بعض دفعہ یہ بھی باقی نہ رہتی اور فاقہ سے ہی رہ جاتے ، یہ نہیں تھا کہ آپ کی جائیداد معمولی تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ گزارہ ہو رہا ہے اس وقت ایک سالم گاؤں آپ اور آپ کے بھائی کا مشترکہ تھا اور علاوہ ازیں جا گیر وغیرہ کی بھی آمدن تھی۔( دعوت الامیر۔انوار العلوم جلد 7 صفحہ 577-576 ) | حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ابتدائی زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی جب پیدا ہوئے تو آپ کے ماں باپ نے آپ کی پیدائش پر خوشی کی ہو گی۔مگر جب آپ کی عمر بڑی ہو گئی اور آپ کے اندر دُنیا سے بے رغبتی پیدا ہوگئی تو آپ کے والد آپ کی اس حالت کو دیکھ کر آہیں بھرا کرتے تھے کہ ہمارا یہ بیٹا کسی کام کے قابل نہیں۔مجھے ایک سکھ نے بتایا کہ ہم دو بھائی تھے ہمارے والد صاحب بڑے مرزا صاحب ( یعنی مرزا غلام مرتضی صاحب) کے پاس آیا کرتے تھے اور ہم بھی بسا اوقات اُن کے ساتھ آجایا کرتے تھے۔ایک دفعہ مرزا صاحب نے ہمارے والد صاحب سے کہا کہ تمہارے لڑکے غلام احمد (علیہ الصلوۃ والسلام) کے پاس آتے جاتے ہیں۔تم ان سے کہو کہ اُسے جا کر سمجھائیں۔ہم دونوں جب آپ کے پاس جانے کے لئے تیار ہو گئے تو مرزا صاحب نے کہا کہ غلام احمد ( علیہ السلام) کو باہر جا کر کہنا کہ تمہارے والد کو اس خیال سے بہت دُکھ ہوتا ہے کہ