تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 819 of 862

تذکار مہدی — Page 819

تذکار مهدی ) 819 نامحمودی روایات سیّد نا محمود لیکن اس طرح تو بہت سی رسمیں کانگرس کی نقل قرار دینی پڑیں گی۔کانگرسی جلسے بھی کرتے ہیں اس لئے یہ جلسہ بھی کانگرس کی نقل ہوگی۔گاندھی جی دودھ پیتے ہیں دودھ پینا بھی ان کی نقل ہو گی اور اس اصل کو پھیلاتے پھیلاتے یہاں تک پھیلانا پڑے گا کہ مسلمان بہت سی اچھی باتوں صلى الله سے محروم رہ جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ کانگرس کی نقل نہیں۔رسول کریم علیہ نے خود جھنڈا باندھا اور فرمایا کہ یہ میں اُسے دوں گا جو اِس کا حق ادا کرے گا۔پس یہ کہنا کہ یہ بدعت ہے تاریخ اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔جھنڈا لہرانا نا جائز نہیں ہاں البتہ اس ساری تقریب میں میں ایک بات کو برداشت نہیں کر سکا اور وہ ایڈریسوں کا چاندی کے خولوں وغیرہ میں پیش کرنا ہے اور چاہے آپ لوگوں کو تکلیف ہوئیں حکم دیتا ہوں کہ ان سب کو بیچ کر قیمت جو بلی فنڈ میں دے دی جائے۔پس جھنڈا رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے اور لڑائی وغیرہ کے مواقع پر اس کی ضرورت ہوتی ہے۔کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے تو جہاد سے ہی منع کر دیا ہے پھر جھنڈے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر میں کہوں گا کہ اگر لوہے کی تلوار کے ساتھ جہاد کرنے والوں کے لئے جھنڈا ضروری ہے تو قرآن کی تلوار سے لڑنے والوں کے لئے کیوں نہیں۔اگر اب ہم لوگ کوئی جھنڈا معتین نہ کریں گے تو بعد میں آنے والے ناراض ہوں گے اور کہیں گے کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نہی جھنڈا بنا جاتے تو کیا اچھا ہوتا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے ایک مجلس میں یہ سُنا ہے کہ ہمارا ایک جھنڈا ہونا چاہیئے۔جھنڈا لوگوں کے جمع ہونے کی ظاہری علامت ہے اور اس سے نو جوانوں کے دلوں میں 66 ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”لواے ماپنہ ہر سعید خواهد بود یعنی میرے جھنڈے کی پناہ ہر سعید کو حاصل ہو گی اور اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہم اپنا جھنڈا نصب کریں تا سعید روحیں اس کے نیچے آ کر پناہ لیں۔یہ ظاہری نشان بھی بہت اہم چیزیں ہوتی ہیں۔جنگ جمل میں حضرت عائشہ ایک اونٹ پر سوار تھیں دشمن نے فیصلہ کیا کہ اُونٹ کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو آپ نیچے گر جائیں اور آپ کے ساتھی لڑائی بند کر دیں لیکن جب آپ کے ساتھ والے صحابہ نے دیکھا کہ اس طرح آپ اگر جائیں گی تو گو آپ دین کا ستون نہ تھیں مگر بہر حال رسول کریم ﷺ کی محبت کی مظہر تھیں اس لئے صحابہ نے اپنی جانوں سے ان کے اونٹ کی حفاظت کی اور تین گھنٹہ کے اندر اندرستر جلیل القدر صحابی کٹ کر گر گئے۔قربانی کی ایسی مثالیں دلوں میں جوش پیدا کرتی ہیں۔پس جھنڈا نہایت ضروری ہے اور بجائے