تذکار مہدی — Page 817
تذکار مهدی ) 817 روایات سید نامحمود نبی تھے میں نے کہا ہاں تو اس نے کہا اچھا مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی۔پھر کہنے لگا آپ قسم کھا کر بتائیں کہ آپ نے انہیں دیکھا؟ میں نے کہا ہاں میں ان کا بیٹا ہوں۔اس نے کہا نہیں میرے سوال کا جواب دیں کہ ان کو دیکھا؟ میں نے کہا ہاں دیکھا۔تو وہ کہنے لگا کہ اچھا میرے ساتھ مصافحہ کریں اور مصافحہ کرنے کے بعد کہا مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی کہ میں نے اس ہاتھ کو چھوا جس نے مسیح موعود کے ہاتھوں کو چھوا تھا اب تک وہ نظارہ میرے دل پر نقش ہے وہ شخص گزشتہ سال ہی فوت ہوا ہے اُسے رؤیا اور کشوف بھی ہوتے تھے اور وہ اس پر فخر کرتا تھا کہ اسلام لانے کے بعد اسے یہ انعام ملا ہے۔تو مجھے اس کی یہ بات کبھی نہیں بھولتی کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ السلام کو دیکھا ہے اور جب میں نے کہا ہاں تو کہا کہ مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی ہے میں نے آپ کو دیکھا ہے۔مجھے اس خیال سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں انسان جو چین ، جاپان ، روس، امریکہ، افریقہ اور دنیا کے تمام گوشوں میں آباد ہیں اور جن کے اندر نیکی اور تقویٰ ہے ان کے دلوں میں خدا کی محبت ہے مگر ان کو ابھی وہ نور نہیں ملا کہ ہم ان تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچائیں اور وہ خوشی سے اُچھلیں اور کہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود دکھلا ؤ اور جب ہم کہیں کہ وہ فوت ہو گئے تو وہ پوچھیں کہ اچھا ان کے شاگرد کہاں ہیں؟ تو ہم انہیں کہیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے احمدیوں کا یہ جواب سن کر وہ لوگ کیا کہیں گے۔اگر ایسا ہو تو وہ ہمارے مبلغوں کو کس حقارت سے دیکھیں گے کہ ان نالائقوں نے ہم تک پیغام پہنچانے میں کس قدر دیر کی ہے تو ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی موجودگی میں ہم ساری دنیا میں احمدیت کا پیغام پہنچا دیں تا ہر ایک کہہ سکے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے مصافحہ کیا ہے اور دنیا کے ہر ملک بلکہ ہر صوبہ میں بسنے والے لوگ اور ہر زبان بولنے والے اور ہر مذہب کے پیرو یہ کہہ سکیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والوں کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے۔یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اس سے ہمیں دنیا کو محروم نہیں رکھنا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے اس کا یہ مطلب نہیں کہ کپڑوں میں برکت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس میں بتایا ہے کہ جب انسان نہ ملیں گے تو لوگ کپڑوں سے ہی برکت ڈھونڈیں گے ورنہ انسان کے مقابلہ میں