تذکار مہدی — Page 39
تذکار مهدی ) 39 روایات سیّد نا محمود ہی اس بات پر اظہار تعجب کیا کہ ابھی تک اس شخص کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا جو اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا ہے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بٹالہ میں اُن کے سامنے پیش ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھتے ہی اُن کی طبیعت پر ایسا اثر پڑا کہ انہیں یقین ہو گیا که یه شخص مجرم نہیں ہو سکتا۔چنانچہ مسٹر ڈگلس ڈپٹی کمشنر نے ڈائس پر اپنے پہلو میں کرسی بچھوائی اور اُس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تشریف رکھنے کے لئے کہا۔یہ وہی دن تھا جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی شہادت تھی وہ اس امید پر آئے تھے کہ مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی اور وہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔مگر جب وہ اندر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ مدعی اور اُس کے ساتھی تو باہر کھڑے ہیں اور ملزم کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔یہ دیکھ کر اُن کو آگ لگ گئی اور اُنہوں نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ میرے لئے بھی کرسی کا انتظام کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ کو کیوں کرسی دی جائے۔آپ ایک گواہ کی حیثیت سے آئے ہیں اور گواہوں کو کرسی نہیں ملا کرتی۔اس پر وہ زیادہ اصرار کرنے لگے کہ نہیں مجھے ضرور کرسی دی جائے۔مسٹر ڈگلس کہنے لگے میں نے کہہ جو دیا ہے کہ آپ کو کرسی نہیں ملے گی۔اس پر بھی وہ خاموش نہ ہوئے اور کہنے لگے میں لاٹ صاحب کے پاس ملنے جاتا ہوں تو وہ بھی مجھے کرسی دے دیتے ہیں آپ مجھے کیوں کرسی نہیں دیتے۔یہ سن کر ڈپٹی کمشنر کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا اگر ایک چوڑ ہا بھی ہم سے مکان پر ملنے کے لئے آئے تو ہم اُسے بھی کرسی دے دیتے ہیں مگر یہ عدالت کا کمرہ ہے یہاں تمہیں کرسی نہیں مل سکتی۔وہ اس پر بھی خاموش نہ ہوئے اور پھر کرسی کے لئے اصرار کرنے لگے۔آخر ڈ پٹی کمشنر نہایت غصہ سے کہنے لگا بک بک مت کر، پیچھے ہٹ اور جوتیوں میں کھڑا ہو جا۔یہ اُس شخص کا حال ہوا جس نے کہا تھا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا تھا اور آب میں ہی اس کو گراؤں گا۔وہاں سے اپنی ذلت کروا کے باہر نکلے تو برآمدہ میں ایک کرسی پڑی ہوئی تھی اُس پر آ کر بیٹھ گئے۔مگر مشہور ہے کہ نوکر آقا کے پیچھے چلتے ہیں۔چیڑ اسی جو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا کہ اندر ڈپٹی کمشنرز ان پر سخت ناراض ہوئے ہیں اُس نے جب دیکھا کہ برآمدہ میں یہ کرسی پر آ کر بیٹھ گئے ہیں تو وہ دوڑا دوڑا آیا اور آ کر کہنے لگا مولوی صاحب! کرسی سے اُٹھیے یہاں آپ کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔وہاں سے اُٹھے تو باہر ہجوم میں آگئے۔وہاں کسی