تذکار مہدی — Page 743
تذکار مهدی ) کارمهدی 743 روایات سید نا محمود ضرورت ہوتی ہے جہاں شریعت روکتی ہے وہاں رک جانا چاہیئے اور جہاں حکم دیتی ہے وہاں عمل کرنا چاہیئے۔( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 385 ) مصائب کا زمانہ روحانی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے مصائب کا زمانہ روحانی ترقی کے لیے ایک نہایت ضروری چیز ہے۔اگر کسی وقت باہر سے مصائب نہ آئیں تو مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے اندرونی طور پر مصائب تلاش کرنے کی کوشش کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان ضرور لیتا ہے مگر جب بندہ خود اپنے آپ کو امتحانات میں ڈالے رکھے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امتحان میں اسے نہیں ڈالتا۔آپ فرمایا کرتے تھے سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا یا گرمیوں میں روزے رکھنا یہ بھی ایک ابتلا ہے اور انسان ان کاموں میں حصہ لینے سے تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن جب کوئی انسان خوشی سے اپنے اوپر مختلف ابتلا ء وار د کر لے، گرمیوں میں روزے رکھنے پڑیں تو وہ روزے رکھنے کے لیے تیار ہو جائے ، سردیوں میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا پڑے تو وضو کر نے کے لیے تیار ہو جائے ، حج کرنے کا موقع نکل آئے تو گھر بار اور وطن چھوڑ کر حج کے لیے چلا جائے ، زکوۃ دینے کا وقت آئے تو اپنے مال کا مقررہ حصہ فوراً غرباء کے لیے نکال دے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اس کا امتحان تو لینا تھا مگر اب میں امتحان لے کر کیا کروں یہ تو اپنے آپ کو خود ہی امتحان میں ڈالے ہوئے ہے۔لیکن جب وہ ان باتوں میں سستی کرتا ہے اور اپنے آپ کو ابتلاؤں میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے مختلف امتحانات میں ڈالا جاتا ہے۔اس وقت اگر تو اُس کے اندر صرف عملی سستی پائی جاتی ہو تو خدائی امتحان کے بعد اُس میں بیداری پیدا ہو جاتی ہے۔اور اگر اس کا ابتلاؤں سے بچنا اندرونی بگاڑ کی وجہ سے ہو اور ایمان کی خرابی اس کا باعث ہو تو ابتلاء آنے پر وہ تباہ ہو جاتا ہے۔غرض قوموں کے لیے خصوصاً انبیاء کی جماعتوں کے لیے ابتلاؤں کا آنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔روزہ اور نماز قصر کرنے کے احکام میں فرق ( خطبات محمود جلد 30 صفحہ 180 تا 181 ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی سنت یہی ہے مگر روزہ اور نماز قصر کرنے کے