تذکار مہدی — Page 34
34 تذکار مهدی ) روایات سید نا محمود صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے اظہار کے لئے مجھے کوئی ایسا نشان دے جولوگوں کے لئے نا قابل انکار ہو اور جس کو دیکھ کر وہی لوگ انکار کر سکیں جو ضد کی وجہ سے ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔چنانچہ اُس وقت آپ پر وہ الہامات نازل ہوئے جو 20 فروری 1886ء کے اشتہار میں درج ہیں۔جس وقت آپ نے یہ اعلان کیا اُس وقت آپ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا نہ تھا، جبکہ جماعت احمدیہ کا وجود بھی ابھی تک قائم نہیں ہوا تھا۔یہ اشتہار 1886ء کا ہے اور آپ نے لوگوں سے بیعت اس اشتہار کے تین سال بعد 1889ء میں لی ہے۔گویا بیعت سے تین سال پہلے 1886ء میں خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی کہ تمہارے ہاں ایک بیٹا ہوگا اور وہ یہ یہ صفات اور کمالات اپنے اندر رکھتا ہوگا جیسا کہ میں ابھی اُن کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کروں گا۔بہر حال آپ نے یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت شائع فرما دی اور دنیا میں اعلان فرما دیا کہ میرے ہاں ایک ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کے عروج کا باعث ہوگا۔جب آپ نے یہ پیشگوئی شائع فرمائی لوگوں نے شور مچا دیا کہ بیٹا ہونا کونسی بڑی بات ہے ہمیشہ لوگوں کے ہاں بیٹے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔حالانکہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب آپ کو یہ الہام ہوا اُس وقت آپ کی عمر باون سال کی تھی اور اُس وقت آپ نے یہ بھی شائع فرما دیا تھا کہ میری اور بھی بہت سی اولاد ہوگی جن میں سے کچھ زندہ رہیں گے اور کچھ بچپن میں فوت ہو جائیں گے اور یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ چار لڑکوں کا میرے ہاں پیدا ہونا ضروری ہے۔غرض آپ نے یہ پیشگوئی اُس وقت کی جب آپ کی عمر باون سال کی تھی اور 52 سال کی عمر میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کی آئندہ اولاد ہونی بند ہو جاتی ہے لیکن اگر اولا د ہو بھی تو کون کہہ سکتا ہے کہ میرے ہاں بیٹے پیدا ہوں گے۔یا اگر بیٹے ہوں تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ زندہ رہیں گے اور اگر بعض بیٹے زندہ بھی رہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ چار ضرور ہوں گے۔غرض کوئی شخص اپنی طرف سے ایسی بات نہیں کہہ سکتا جب تک خدا اُسے خبر نہ دے۔بہر حال لوگوں نے اعتراض کیا کہ بیٹا ہونا کونسی بڑی بات ہے لوگوں کے ہاں ہمیشہ بیٹے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں اور کبھی کسی نے اس کو نشان قرار نہیں دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا کہ اول تو میری عمر اس وقت بڑھاپے کی ہے۔جوانی میں بھی انسان کی زندگی کا اعتبار نہیں ہوتا مگر بڑھاپے میں تو ایک دن کے لئے بھی انسان وثوق