تذکار مہدی — Page 668
تذکار مهدی رستم کا خوف 668 روایات سید نا محمود رعب ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے کوئی بڑی سے بڑی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام رستم کے متعلق ایک قصہ سناتے تھے کہ اس کے گھر ایک دفعہ چور آیا اور رستم سے اسکی لڑائی شروع ہو گئی جسے گرا کر وہ چھاتی پر چڑھ بیٹھا اور مارنے لگا اس پر رستم نے سمجھا کہ اسے معلوم نہیں کہ میں کون ہوں اس لئے اس نے کہا رستم آ گیا رستم آگیا۔یہ سن کر چور بھاگ گیا اصل رستم کو تو اس نے گرا لیا مگر اسکے نام سے بھاگ گیا۔یہ رعب ہی تھا تو رعب ایک ایسی چیز ہے کہ اسی کی بناء پر حکومتیں قائم رہتی ہیں اور جس حکومت کے رعب میں فرق آ جائے وہ خواہ کسی قدر طاقت رکھتی ہو کچھ نہیں کر سکتی نہ امن قائم رکھ سکتی ہے اور نہ فساد وفتنہ روک سکتی ہے۔(اطاعت اور احسان شناسی ، انوار العلوم جلد چہارم صفحه 10 حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کی ایک دوسرے پر سبقت ایک دفعہ امام حسن اور امام حسین کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوگئی بھائیوں بھائیوں میں بھی بعض دفعہ ناراضگی کی کوئی بات ہو جاتی ہے۔حضرت امام حسنؓ کی طبیعت بہت سلجھی ہوئی اور نرم تھی۔لیکن حضرت امام حسین کی طبیعت میں جوش پایا جاتا تھا ان میں جو جھگڑا ہوا اس میں حضرت امام حسین کی طرف سے زیادتی ہوئی۔لیکن حضرت امام حسنؓ نے صبر سے کام لیا۔اس جھگڑے کے وقت بعض اور صحابہ بھی موجود تھے۔جب جھگڑا ختم ہو گیا تو دوسرے دن ایک شخص نے دیکھا کہ حضرت امام حسن جلدی جلدی کسی طرف جا رہے ہیں۔اس نے ان سے پوچھا آپ کہاں جا رہے ہیں۔حضرت حسنؓ کہنے لگے میں حسین سے معافی مانگنے چلا ہوں وہ کہنے لگا کیا آپ معافی مانگنے چلے ہیں؟ میں تو خود اس جھگڑے کے وقت وہاں موجود تھا اور میں جانتا ہوں کہ حسین نے آپ کے متعلق سختی سے کام لیا۔پس یہ ان کا کام ہے کہ وہ آپ سے معافی مانگیں نہ یہ کہ آپ ان سے معافی مانگنے چلے جائیں۔حضرت حسنؓ نے کہا۔یہ ٹھیک ہے میں اسی لئے تو ان سے معافی مانگنے جا رہا ہوں کہ انہوں نے مجھ پر سختی کی تھی کیونکہ ایک صحابی نے مجھے سنایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا جب دو شخص آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں سے جو پہلے صلح کرتا ہے وہ جنت میں دوسرے سے پانچ سو سال پہلے داخل ہو گا۔میرے