تذکار مہدی — Page 649
تذکار مهدی ) 649 روایات سید نامحمود جاتے خدا تعالی کی نگاہ میں ان کی قیمت گرتی جاتی۔آخر ایک دن ایک پہاڑی کی چوٹی پر کوئی درخت تھا اور وہاں گھونسلے میں چڑیا کا ایک بچہ بیٹھا ہوا تھا اُس بچے کی ماں کہیں گئی اور پھر واپس نہ آسکی شاید مرگئی یا کوئی اور وجہ ہوئی کہ نہ آئی۔بعد میں اس چڑیا کے بچہ کو پیاس لگی اور وہ پیاس سے تڑپنے لگا اور اپنی چونچ کھولنے لگا تب خدا تعالیٰ نے یہ دیکھ کر اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور زمین پر پانی برساؤ اور اتنا برساؤ کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر جو درخت ہے اُس کے گھونسلہ تک پہنچ جائے تا کہ چڑیا کا بچہ پانی پی سکے۔فرشتوں نے کہا خدایا! وہاں تک پانی پہنچانے میں تو ساری دنیا غرق ہو جائے گی۔خدا تعالیٰ نے جواب دیا کوئی پرواہ نہیں اس وقت دنیا کے لوگوں کی میرے نزدیک اتنی بھی حیثیت نہیں جتنی اُس چڑیا کے بچہ کی حیثیت ہے۔اس کہانی میں یہی سبق سکھایا گیا ہے جو بالکل درست ہے کہ صداقت اور راستی سے خالی دنیا ساری کی ساری مل کر بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک چڑیا کے بچہ جتنی حیثیت نہیں رکھتی۔تو پھر بتاؤ کہ ایک یا چند انسانوں کی صداقت کے مقابلہ میں کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔(خطبات محمود جلد 17 صفحہ 679،678) حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو لطائف بھی سنایا کرتے تھے۔اخلاقی تعلیم وہ ہے جو قرآن سکھاتا ہے کہ اگر مارکھانے میں فائدہ ہو تو مار کھا اور اگر مارنے میں فائدہ ہو تو مار بہر حال جس سے دنیا کو فائدہ پہنچتا ہو جس سے لوگوں میں امن قائم ہوتا ہو جس سے دوسرے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہو وہ کام کر نہ مار کھانا اچھا ہے نہ مارنا اچھا ہے ہاں وہ چیز اچھی ہے جو اپنے موقعہ پر کی جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ کہیں شیر اور بھیڑیا میں بحث ہو گئی کہ سردی پوہ ہوتی ہے یا ماگھ میں۔خوب لڑے شیر کہے پوہ میں ہوتی ہے، بھیڑیا کہے ماگھ میں ہوتی ہے۔آخر بڑی دیر بحث کرنے کے بعد انہوں نے کہا گیدڑ کو بلاؤ اور اس سے فیصلہ چاہو۔گیدڑ بیچارہ آیا اس کے لئے وہ بھی مار کھنڈ تھا اور یہ بھی مار کھنڈ۔اس کی بات کہے تو وہ مارے۔اس کی بات کہے تو یہ مارے۔آخر کہنے لگا ٹھہر جاؤ سوچ لوں۔سوچ سوچ کر کہنے لگا۔سنو سنگھ سردار بگھیاڑ راجی نہ پالا پوہ نہ پالا ماگھ پالا واجی