تذکار مہدی — Page 600
تذکار مهدی ) 600 روایات سید نا محمود اخلاص کا ثبوت ایسے رنگ میں پیش کیا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔یہ لوگ محبت پیار کے مجسمے تھے۔منشی اروڑہ صاحب مرحوم نے مجھے خود ایک واقعہ سنایا کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ لیا تھا کہ آپ کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ابتدائی زمانہ میں دو ریاستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کا موقعہ نصیب ہوا ایک کپورتھلہ اور دوسری پٹیالہ۔مجھے افسوس ہے کہ پٹیالہ نے اپنا معیار قائم نہ رکھا۔بعد میں کئی فتنوں میں پٹیالہ کا کوئی نہ کوئی حصہ ہوتا رہا ہے۔( یہ یمنی بات میں نے اس لئے کہہ دی کہ پٹیالہ کی جماعت کو توجہ ہو اور وہ اپنے معیار کو قائم رکھنے کی کوشش کرے کیونکہ محض ماں باپ کی وجہ سے کوئی ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں کر سکتا ) تو کپورتھلہ کی جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خواہش کی کہ حضور وہاں تشریف لائیں آپ نے وعدہ فرمایا۔منشی اروڑہ صاحب مرحوم نے سنایا کہ ایک دفعہ وہ ایک دوکان پر بیٹھے تھے۔اس زمانہ میں کپورتھلہ میں ریل نہ جاتی تھی۔شائد پھگواڑہ سے ٹانگوں پر لوگ جاتے تھے۔منشی صاحب مرحوم ایک دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے۔کہ ایک شدید دشمن سلسلہ جو ہمیشہ احمدیوں کے ساتھ برائی کیا کرتا تھا آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے مرزا صاحب (علیہ الصلوۃ والسلام) آئے ہیں اور اڈے پر کھڑے ہیں۔منشی صاحب اس وقت دوکان پر بیٹھے آرام سے باتیں کر رہے تھے۔پگڑی اور جوتی اتاری ہوئی تھی۔جب اس دشمن نے یہ خبر سنائی تو اسی طرح اٹھ کر دوڑ پڑے تھوڑی دور گئے۔تو خیال آیا کہ یہ شخص ہمیشہ ہمیں چڑایا کرتا ہے۔یہ بھی اس نے تمسخر نہ کیا ہو۔اس لئے پندرہ ہیں قدم دوڑ نے کے بعد ٹھہر گئے۔اور اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تو بڑا خبیث ہے ہمیشہ ستاتا ہے۔یہ بھی تو نے جھوٹ بولا ہو گا۔ورنہ ہماری قسمت ایسی کہاں کہ حضور تشریف لائیں۔مگر اس نے کہا نہیں میں جھوٹ نہیں بولتا۔میں انہیں استوں کے اڈے پر کھڑا چھوڑ کر آیا ہوں۔یہ پھر دوڑ پڑے مگر پھر پندرہ بیس قدم دوڑ کر پھر کھڑے ہو گئے اور پھر اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور آخر میں کہا کہ ہماری قسمت ایسی کہاں کہ حضور تشریف لائیں اور اسی طرح تین چار مرتبہ کیا۔تھوڑی دور بھاگتے اور پھر کھڑے ہو کر اسے کو سنے لگتے کہ اتنے میں سامنے سے حضرت صاحب تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیئے۔منشی صاحب مرحوم شائد مجسٹریٹ یا سیشن حج کی پیشی میں تھے۔مہینہ میں ایک بار