تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 862

تذکار مہدی — Page 575

تذکار مهدی ) ❤575 حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا سیر میں ساتھ شامل ہونا روایات سید نا محمود کسی چیز کی عادت یا مشق نہ ہونے کی وجہ سے انسان کو بہت سی مشکلات پیش آیا کرتی ہیں۔حضرت خلیفہ مسیح الاول میں جس قدر اخلاص تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن انہیں تیز چلنے کی عادت نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سیر کیلئے تشریف لے جاتے تو حضرت خلیفہ اول بھی ساتھ ہوتے مگر تھوڑی دور چل کر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تیز قدم کر لینے تو حضرت خلیفہ اول نے قصبہ کے مشرقی طرف قصبہ کے باہر ایک بڑ کا درخت ہے اس کے نیچے بیٹھ جانا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سیر سے واپس آنا تو پھر آپ کے ساتھ ہو لینا۔کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ حضرت مولوی صاحب سیر کیلئے نہیں جاتے۔آپ نے فرمایا وہ تو روز جاتے ہیں۔اس پر آپ کو بتایا گیا کہ وہ سیر کیلئے ساتھ تو چلتے ہیں لیکن پھر بڑ کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں اور واپسی پر پھر ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ سیر میں رکھتے اور جب آپ نے تیز ہو جانا اور حضرت خلیفہ اول نے بہت پیچھے رہ جانا تو آپ نے چلتے چلتے ٹھہر جانا اور فرمانا مولوی صاحب فلاں بات کس طرح ہے۔مولوی صاحب تیز تیز چل کر آپ کے پاس پہنچتے اور ساتھ چل پڑتے۔تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام آگے نکل جاتے۔تھوڑی دُور جا کر پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہر جاتے اور فرماتے مولوی صاحب! فلاں بات اس اس طرح ہے۔مولوی صاحب پھر تیزی سے آپ کے پاس پہنچتے اور تیز تیز چلنے کی وجہ سے ہانپنے لگ جاتے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو اپنے ساتھ رکھتے۔تمیں چالیس گز چل کر پھر مولوی صاحب پیچھے رہ جاتے اور آپ پھر کوئی بات کہہ کر مولوی صاحب کو مخاطب فرماتے اور وہ تیزی سے آپ سے آکر مل جاتے۔آپ کی غرض یہ تھی کہ اس طرح مولوی صاحب کو تیز چلنے کی عادت ہو جائے۔یہ صرف تیز چلنے کی مشق نہ ہونے کا نتیجہ تھا کہ مولوی صاحب آہستہ چلتے۔چونکہ طب کا پیشہ ایسا ہے کہ اس میں عموماً انسان کو بیٹھا رہنا پڑتا ہے اور اگر باہر کسی مریض کو دیکھنے کیلئے جانے کا اتفاق ہو تو سواری موجود ہوتی ہے اس لئے حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کو تیز چلنے کی