تذکار مہدی — Page 17
تذکار مهدی ) 17 روایات سید نا محمود ) تاریخ اور عقل دونوں کے مطابق ہو اور جس سے امن پیدا ہوتا ہو۔ہم ایک ہی جگہ کے رہنے والے ہیں اس لئے ہمارے درمیان فساد والی باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔کسی کا یہ خیال کرنا کہ احمدی تھوڑے ہیں اور کوئی بھی قوم انہیں مار سکتی ہے اور ان کے مکان اور جائیداد میں تباہ کر سکتی ہے۔بالکل غلط خیال ہے۔ایک بچہ کو بھی اگر زبردست پہلوان کنوئیں میں پھینکنا چاہے تو وہ بھی مقابلہ کرتا اور اسے دق کر دیتا ہے۔پھر ہمارا تو کسی طاقت پر بھروسہ نہیں۔ہمارا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا محافظ ہے۔تلواروں، نمکوؤں اور لاٹھیوں کا رعب ہمیں دبا نہیں سکتا اور نہ ہم کسی کو دبانا چاہتے ہیں۔گو یہ لوگ ہمارے شدید دشمن ہیں۔مگر ہم پھر بھی ان سے اور ان کی اولا دوں سے محبت کرتے ہیں۔ہم نے ان پر غلبہ ضرور حاصل کرنا ہے مگر تلوار یا بندوق سے نہیں بلکہ دلائل ( خطبات محمود جلد 21 صفحہ 431 تا435) اور پیار سے۔ہمارے آباء واجداد کے تاریخی حالات قادیان میرے آباء و اجداد کا بنایا ہوا قصبہ ہے اور اس کا اصل نام اسلام پور تھا جس کے آخر میں قاضی کا لفظ اس وجہ سے زائد کیا جاتا تھا تا یہ ظاہر کیا جائے کہ مغلیہ حکومت کی طرف سے ایک قاضی اس علاقہ کی نگرانی کے لئے رہتا ہے لیکن مرورِ زمانہ سے یہ نام صرف قاضی اور پھر قاضی سے قادی اور قادی سے قادیان بن گیا۔میرے آباء واجداد تین سو سال تک اس پر اور اس کے علاقہ پر پہلے تو مغلیہ حکومت کی طرف سے اور بعد میں طوائف الملو کی کے زمانہ میں آزادانہ طور پر حکومت کرتے رہے ہیں۔چنانچہ پرانی روایات اور سرلیپل گریفن کی کتاب رو سائے پنجاب اس امر پر شاہد ہیں۔مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کی حکومت سے پہلے ہمارے خاندان کی حکومت کے خلاف سکھ قبائل نے حملہ کیا۔اور آہستہ آہستہ ان کے مقبوضات سے جو اسی (80) دیہات پر مشتمل تھے ، ان کو بے دخل کرتے گئے یہاں تک کہ صرف قادیان ان کے قبضہ میں رہ گیا۔اس سے بھی ان کو بے دخل کرنے کے لئے سکھ قبائل پاس کے قصبات میں ایک نیم دائرہ کی صورت میں آباد ہو گئے اور آخر میرے دادا کے والد کے زمانے میں میرے آباء کو قادیان چھوڑنا پڑا لیکن مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں قبائل کا زور ٹوٹنے پر میرے دادا صاحب پھر قادیان میں واپس آگئے اور قادیان اور اس کے ملحقہ سات دیہات پر انہیں دخل مل گیا۔اس کے بعد انگریزی حکومت اس ملک میں آئی تو بر خلاف فوج کے دوسرے افسروں کے