تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 862

تذکار مہدی — Page 543

تذکار مهدی ) 543 روایات سید نا محمود مؤکل سے کہتا کہ آ کر اپنی فیس لے جانا۔یہ کوئی نیکی نہ تھی بلکہ انسانیت کا یہ تقاضا تھا جو ایک بندے کو خدا ماننے والے سے ظاہر ہوتا تھا مگر اسی سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ زمانہ کے مامور پر ایمان لانے والوں کے اخلاق کتنے بلند ہونے چاہئیں۔یہ کس قدر معیوب بات ہے کہ ایک شخص ایک من ترکاری بٹالہ سے لے آئے حالانکہ اس کی اجازت نہ ہو اور پھر بابو کو کچھ دے کر محصول کی ادائیگی سے بچ جائے۔ایسا شخص تر کاری تو بے شک بٹالہ سے لے آیا اور محصول کے پیسے بھی بچالا یا مگر ایمان بٹالہ میں ہی چھوڑ آیا۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان باتوں کو چھوڑ دیا جائے۔ایسا کرنے والے آخر اس طرح کتنا مال کما لیتے ہیں۔اس طرح مال نہیں ملا کرتا اللہ تعالیٰ جب کسی کو مال دینا چاہتا ہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا خواہ وہ دیانتداری کے معیار کتنے سخت کیوں نہ کر دے۔خدا تعالیٰ کسی نہ کسی طرح اسے دینے کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال ہی لیتا ہے اور جب وہ نہ دینا چاہے تو اس طرح کمایا ہو ا مال کسی نہ کسی طرح نکل جاتا ہے۔ایسے لوگوں میں سے کئی جماعت سے بھی نکل جاتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا بائیکاٹ کر دیا گیا ہے۔حالانکہ ان کا بائیکاٹ کون کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے سزا ہوتی ہے۔خطبات محمود جلد 20 صفحہ 324 تا325) خدا تعالی کی تائید اور نصرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس حالت اور اس کیفیت کا اندازہ اس نوٹ سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ نے اپنی ایک پرائیویٹ نوٹ بک میں لکھا اور جسے میں نے نوٹ بک سے لے کر شائع کر دیا۔وہ تحریر آپ نے دنیا کو دکھانے کے لئے نہ لکھی تھی کہ کوئی اس میں کسی قسم کا تکلف اور بناوٹ خیال کر سکے۔وہ ایک سر گوشی تھی اپنے رب کے ساتھ اور وہ ایک عاجزانہ پکار تھی اپنے اللہ کے حضور جو لکھنے والے کے قلم سے نکلی اور خدا تعالیٰ کے حضور پہنچی۔آپ نے وہ تحریر نہ اس لئے لکھی تھی کہ وہ دنیا میں پہنچے اور نہ پہنچ سکتی تھی اگر میرے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت کے ماتحت نہ ڈال دیتا اور میں اسے شائع نہ کر دیتا۔اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں