تذکار مہدی — Page 537
تذکار مهدی ) 537 روایات سید نامحمودی اور روز بروز ہمیں کمزور کر رہا ہے۔کیا تمہیں اس کے بائیکاٹ کا فکر نہیں۔ہم تو جب اس کا بائیکاٹ کرلیں گے تو پھر اوروں کو دیکھا جائے گا۔ململ کی پگڑی برکات خلافت۔انوار العلوم جلد 2 صفحہ 207-206 ) | فیشن بدلنے کا شوق ہوتا ہے اس لئے اگلے سال کپڑے کا کوئی نیا ڈیزائن بازار میں آجائے گا اور پہلا ڈیزائن غائب ہو جائے گا۔بلکہ بعض دفعہ ایک عام استعمال میں آنے والی چیز بھی ایسی غائب ہو جاتی ہے کہ اسے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔مثلاً ہمارے ملک کے تجربہ نے یہ بتایا ہے کہ نمبر 26 کی ململ کی پگڑی اچھی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نمبر 26 کی ململ کی پگڑی ہی پہنا کرتے تھے اور میں بھی نمبر 26 کی ململ کی پگڑی ہی پہنتا ہوں۔لیکن اب یہ عمل بازار سے غائب ہو گئی ہے اور اس کا حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔اب کوئی واقف کار ملتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ کہیں سے نمبر 26 کی ململ لا دو کیونکہ اسی ململ کی پگڑی باندھنے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔دوسری ململ موٹی ہو جاتی ہے اور اس کی پگڑی ہاتھ میں نہیں آتی اور یا پھر پتلی ہو جاتی ہے لیکن ابھی ایک نسل بھی نہیں گزری کہ یہ عمل بازار میں نہیں ملتی۔بچپن میں جولٹھا آپ لوگ پہنا کرتے تھے۔وہ آج نہیں ملتا۔جس لٹھے کے کپڑے تم اب پہنتے ہو۔وہ تمہارے بڑھاپے کے وقت نہیں ہو گا۔لیکن جہاں تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد فیشن بدل جاتا ہے۔وہاں تمہارا پرانا طریق نہیں بدلتا۔وہی زربفت آج پائی جاتی ہے۔جو سینکڑوں سال پہلے لوگ پہنا کرتے تھے۔وہی مخمل اور دمشقی آج پائی جاتی ہے۔جو آج سے ہزاروں سال پہلے مستعمل تھی۔( خطبات محمود جلد 33 صفحہ 307) مصروفیت کی وجہ سے لباس کی طرف توجہ نہیں رہتی اگر کوئی شخص ان باتوں میں ہمہ تن مشغول ہو تو اسے یہ موقعہ ہی نہیں ملتا کہ وہ لباس کی درستی کی طرف توجہ کرے۔میں نے دیکھا ہے کام کی کثرت کی وجہ سے کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ادھر میں کھانا کھا رہا ہوتا ہوں اور ادھر اخبار پڑھ رہا ہوتا ہوں۔بیویاں کہتی بھی ہیں کہ اس وقت اخبار نہ پڑھیں کھانا کھا ئیں۔مگر میں کہتا ہوں میرے پاس اور کوئی وقت نہیں۔پھر کئی دفعہ لوگ