تذکار مہدی — Page 530
تذکار مهدی ) یادیں بھلائی نہیں جاسکتیں 530 روایات سید نا محمودی میں نے جب کبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ واقعہ پڑھا ہے کہ آپ نے جب پہلی مرتبہ چکی سے پسے ہوئے باریک آٹے کی روٹی کھائی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے آپ کے آنسو بہہ پڑے تو اس وقت میری آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگ جاتے ہیں ایک عورت کہتی ہے میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ یہ بات کیا ہے کہ اتنی عمدہ روٹی کھا کر بھی آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں۔انہوں نے فرمایا جب میں نے اس روٹی کا ایک لقمہ اپنے منہ میں ڈالا تو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد آگئے کیونکہ آپ کے زمانہ میں چکیاں نہیں تھیں ہم صرف سل بٹہ پر غلہ کوٹ کر اور پھونکوں سے اس کے چھلکے اڑا کر روٹی پکا لیا کرتے تھے۔مجھے خیال آیا کہ اگر اس وقت بھی چکیاں ہوتیں اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ملائم اور بار یک آٹے کی روٹی کھلاتی تو آپ کو کتنی راحت پہنچتی۔میری حالت بھی ایسی ہی ہے۔سلسلہ کی کوئی ترقی اور کوئی فتح نہیں۔جو ایک رنگ میں میرے لئے غم کا ایک نیا سامان پیدا نہیں کرتی کیونکہ اس وقت مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ آج اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ ہوتے تو جو فتوحات اور کامیابیاں ہمیں حاصل ہو رہی ہیں ان کے پھول ہم آپ کے قدموں میں جا کر ڈال دیتے۔مگر خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ لوگ جو اپنا خون بہا کر اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں ہلکان کر کے خدائی کھیت میں بیج ڈالتے ہیں وہ پھل کاٹتے وقت اس دنیا میں موجود نہیں ہوتے لیکن ہمارا دل ان کو کب بھلا سکتا ہے۔ہم ان کی یاد کو کس طرح فراموش کر سکتے ہیں۔ایک ایک کام جو ہمارے سلسلہ میں ہو رہا ہے۔ایک ایک علمی مسئلہ جوصل ہو رہا ہے۔ایک ایک فیضان الہی جو ہم پر نازل ہو۔انہی کی دعاؤں اور برکتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔الفضل 2 جنوری 1962 ء جلد 51/16 نمبر 1 صفحہ 3 | علم غیب کی حقیقت مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جب ہم نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے پڑھنا شروع کیا۔تو میرے ساتھ میر محمد اسحاق صاحب بھی شامل ہو گئے۔ہم دونوں اس وقت بہت چھوٹی عمر کے تھے۔ان کی عمر کوئی دس سال کی تھی اور میری عمر بارہ سال کی تھی۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے