تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 862

تذکار مہدی — Page 510

تذکار مهدی ) 510 روایات سید نامحمود کا عقیدہ تو اس سے سخت ہوتا ہے۔مگر ممکن ہے مولوی محمد حسین صاحب نے مصلحت وقت کے تحت یہ بات کہہ دی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ باتیں سن کر فرمایا کہ یہ باتیں تو بالکل معقول ہیں میں ان کا جواب کیا دوں۔چونکہ اس جواب سے حنفیوں کو کچھ ذلت محسوس ہوئی۔اس لئے انہوں نے بہت برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور طنزیں کرنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے ہم وہاں سے آگئے اور خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کر دیا۔رات کو خدا وند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔یہاں 66 تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ (تذکرہ 8) پس میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے جو مربی تیار ہوں۔وہ بھی تقوی کے ماتحت کام کریں۔سنجیدگی کا دامن کبھی نہ چھوڑیں اور خدا تعالی کی خوشنودی کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔ان کا مقصد بحث کبھی نہ ہو۔بلکہ ایسا نمونہ پیش کریں کہ جو دوسروں میں خرابیاں ہیں دور ہو سکیں اور وہ ایسی سد سکندری کا کام دیں جو یا جوج ماجوج کے حملوں کو روک دے۔پس اس کام کے متعلق اپنی زندگیاں وقف کرنے کی تحریک میں جماعت کے نوجوانوں کو کرتا ہوں۔مامور کی بیعت میں شامل ہونا خطبات محمود جلد 21 صفحہ 466-467) پس جو چیز تحریک کا سواں حصہ ہے اس پر خواہ کس قدر جوش کے ساتھ عمل کیا جائے کامیابی نہیں ہوسکتی۔اصل کام وہ ہے جو جماعت کو خود کرنا ہے روپیہ تو ایسے حصوں کے لئے ہے جہاں پہنچ کر جماعت کام نہیں کرسکتی باقی اصل کام جماعت کو خود کرنا ہے۔قرآن اور حدیث سے کہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کسی نبی نے مزدوروں کے ذریعہ فتح حاصل کی ہو۔کوئی نبی ایسا نہ تھا جس نے مبلغ اور مدرس نوکر رکھے ہوئے ہوں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ ایک بھی مبلغ نوکر نہ تھا اب تو جماعت کے پھیلنے کی وجہ سے سہارے کے لیے بعض مبلغ رکھ لئے گئے ہیں۔جیسے پہاڑوں پر لوگ عمارت بناتے ہیں تو اس میں سہارے کے لیے لکڑی دے دیتے ہیں تا لچک پیدا ہو جائے اور زلزلہ کے اثرات سے محفوظ رہے۔پس ہمارا مبلغین کو ملازم رکھنا بھی