تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 862

تذکار مہدی — Page 504

تذکار مهدی 504 روایات سید نا محمود میرے ذہن سے اُتر جاتا اور میں اس واقعہ کو بالکل بھول جاتا مگر بچپن کی عمر کے لحاظ سے ایک بات میں نے ایسی دیکھی کہ جس نے اس نظارہ کے نقوش کو بہت گہرے طور پر میرے دماغ پر ثبت کر دیا۔میں نے دیکھا کہ ایک بڑھا شخص جس کی داڑھی ناف تک پہنچ رہی تھی ، 75-80 سال اس کی عمر ہوگی ، اُس کا قد لمبا اور جسم دبلا پتلا تھا۔اس نے اپنے ایک ہاتھ پر زرد زرد پٹیاں باندھی ہوئی تھیں جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کا ہاتھ زخمی ہے اور ہاتھ پہنچے کے آگے سے کٹا ہوا تھا۔اپنے اس ٹنڈ کو دوسرے صحیح ہاتھ پر مار رہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ ہائے ہائے مرزا ، ہائے ہائے مرزا۔اپنے بچپن کے لحاظ سے یہ نظارہ میرے لئے ایک عجیب نظارہ تھا کہ ایک شخص کا ہاتھ کٹا ہوا ہے اور اُس پر ہلدی وغیرہ اس نے باندھی ہوئی ہے مگر وہ اپنائنڈ دوسرے ہاتھ پر مارتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے ہائے ہائے مرزا، ہائے ہائے مرزا۔بے شک یہ چیزیں ہوئیں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان باتوں کو دیکھ کر خوش ہوئے اور وہ اپنے دل میں کہتے ہوں گے کہ دیکھا! ہم نے احمدیوں کا کیسا ناطقہ بند کیا، ان کو کیسا ذلیل اور کیسا رسوا کیا۔مگر دنیا کی نگاہوں میں جو ذلت ہو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک عزت ہوتی ہے اور دنیا کی نگاہوں میں جو عزت ہو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ذلت ہوتی ہے۔جس وقت وہ تمام لوگ ہنسی کر رہے تھے ، جس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے ساری دنیا میں تبلیغ احمدیت کے راستے بند کر دیئے ہیں۔اُس وقت ہر گالی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مل رہی تھی۔وہ آپ کے انعامات اور خطابات اور القابات کی فہرست میں لکھی جا رہی تھی۔آخر یہ ان گالیوں کا ہی نتیجہ ہے جو ہم یہاں بیٹھے ہیں اور کس بات کا نتیجہ ہے۔پس وہ جتنا جتنا کہتے ہائے ہائے مرزا ، ہائے ہائے مرزا یعنی نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مر گئے ہیں اور وہ آپ کا سیا پا کر رہے ہیں۔اُتنا ہی فرشتے کہتے آپ کو اور زندگی ملے آپ کو اور درجہ ملے اور آخر وہی بات پوری ہوئی جو خدا اور اُس کے فرشتوں نے کہی۔وہ بات تو پوری نہ ہوئی جو مولوی محمد حسین بٹالوی نے کہی تھی۔تو دنیا کی طرف سے جو عزتیں آتی ہیں وہ کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔ہاں جو عزت خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے وہی حقیقی عزت ہوتی ہے اور وہ انہی کو ملتی ہے جو خدا تعالیٰ کی خشیت اپنے دل میں رکھتے ہوں۔ظاہری نام کے رٹ لینے سے وہ عزت نہیں مل سکتی۔تو انسان کیلئے دنیا میں ہر مقام پر گرنے کا خطرہ ہے سوائے اس کے کہ وہ ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں