تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 862

تذکار مہدی — Page 440

تذکار مهدی ) 6440 حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدرائی کا اخلاص روایات سید نا محمود سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس کے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدی ہوئے ان میں بڑا اخلاص تھا اور خوب تبلیغ کرنے والے تھے ان کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بڑے درد سے سنایا کرتے تھے اور مجھے بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو ان کے لئے دعا کی تحریک ہوتی ہے۔ابتداء میں ان کی مالی حالت بڑی اچھی تھی اور اس وقت وہ دین کے لئے بڑی قربانی کرتے تھے۔تین سو، چارسو، پانچ سوروپیہ تک ماہوار چندہ بھیجتے تھے۔خدا کی قدرت وہ بعض کام غلط کر بیٹھے اور اس وجہ سے ان کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام انہیں کے متعلق ہوا۔وو قادر ہے وہ بارگہ جو ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اسکا بھید نہ پاوے جب یہ الہام ہوا تو پہلے مصرعہ کی طرف ہی خیال گیا اور قادر ہے وہ بار کہ جو ٹوٹا کام بناوے سے یہ سمجھا گیا کہ سیٹھ صاحب کا کاروبار پھر درست ہو جائے گا۔اور دوسرے مصرعہ بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پائے کی طرف ذہن نہ گیا کہ پہلے کام بن کر پھر بگڑ جائے گا بلکہ اسے ایک عام اصول سمجھا گیا سیٹھ صاحب کے کاروبار کو دھکا لگنے کے بعد دو تین سال حالت اچھی ہو گئی مگر پھر خراب ہو گئی اور یہاں تک حالت پہنچ گئی کہ بعض اوقات کھانے پینے کے لئے بھی ان کے پاس کچھ نہ ہوتا۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عجیب محبت کے رنگ میں ان کا ذکر کیا۔فرمایا سیٹھ عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا صاحب کا اخلاص کتنا بڑھا ہوا تھا۔پانچ سو روپے کی رقم تھی جو انہوں نے اس موقع پر بھیجی تھی۔کسی دوست نے ان کی مشکلات کو دیکھ کر دو تین ہزار روپیہ انہیں دیا کہ کوئی تجارتی کام شروع کر دیں یا برتنوں کی دکان کھول لیں۔اس میں سے پانچ سو روپیہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھجوادیا اور لکھا مدت سے میں چندہ نہیں بھیج سکا۔اب میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ جب خدا تعالیٰ نے مجھے ایک رقم بھجوائی ہے تو میں اس میں سے دین کے لئے کچھ نہ دوں۔غرض خدمت دین کے لئے ان کا اخلاص بہت بڑھا ہو ا تھا۔(خطبات محمود جلد سوم صفحہ 542)