تذکار مہدی — Page 426
تذکار مهدی ) 426 روایات سید نا محمود امیر عبدالرحمان خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سُنایا کرتے تھے کہ امیر عبدالرحمان خان کا باپ افغانستان سے بھاگ گیا تھا اور امیر عبدالرحمان نے خود یہ بات واپس آکر سُنائی کہ روس کو جاتے ہوئے جب وہ بُخارا میں سے گزرے تو ایک گاؤں میں کسی بات پر گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ بات تو بادشاہ کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔اُنہوں نے پوچھا کہ بادشاہ کہاں ہیں ؟ تو گاؤں والوں نے بتایا کہ گھاس لینے گئے ہیں۔وہ اُسی گاؤں کا بادشاہ تھا۔تھوڑی دیر میں گاؤں والوں نے بتایا کہ وہ بادشاہ سلامت آرہے ہیں۔وہ ایک دُبلے پتلے گھوڑے پر سوار تھا اُدھر سے امیر عبدالرحمان خان کے والد اپنے گھوڑے پر سوار اُس کی طرف گئے تو باوجود موٹا تازہ ہونے کے امیر کا گھوڑا ڈر گیا۔اُس نے آواز دی کہ عبد الرحمان ذرا ادھر آنا۔مگر امیر عبدالرحمان نے کہا کہ میں دو بادشاہوں کی لڑائی میں دخل نہیں دینا چاہتا۔تو ایک صوبہ، ایک ضلع اور ایک تحصیل کا چھوڑ کر ایک گاؤں کے بادشاہ بھی ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم بادشاہ ہیں۔بادشاہ سے اُو پر شہنشاہ ہوتا ہے وہ بھی دُنیا میں کئی کئی ہوتے ہیں۔پچھلے زمانہ میں انگلستان، روس، جرمن اور ایسے سینیا کے بادشاہ شہنشاہ کہلاتے تھے اور اس طرح چار شہنشاہ بہ یک وقت دُنیا میں موجود تھے۔جنگ کے بعد دومٹ گئے اور طاقتور شہنشاہ ایک رہا۔دوسرا ایسے سینیا کا شہنشاہ تھا جو بیچارہ کسی حساب میں نہ تھا۔خدا تعالیٰ کو یہ پسند نہ آیا کہ حقیقی شہنشاہ ایک ہی رہے اس لئے اٹلی نے حبشہ کو فتح کر کے اپنے بادشاہ کا نام شہنشاہ رکھ دیا اور اس طرح اب پھر دو شہنشاہ ہو گئے ہیں۔شاندار چیزیں ہی قوموں کو زندہ کرتی ہیں (خطبات محمود جلد 19 صفحہ نمبر 452 ) انسان کو اپنے اندر صرف ایمان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔تم اپنے ایمانوں کا جائزہ لو، سچائیوں پر قائم ہو جاؤ ، راستی اور صداقت کو اپنا شعار بناؤ، خدا کے ذکر میں مشغول رہو، اس کی معرفت اپنے اندر پیدا کرو تاکہ خدا تم کو نظر آ جائے اور اسی دنیا میں وہ تم کو اپنا جلوہ دکھا دے۔جب تک خدا نظر نہیں آتا دنیا کی مصیبتیں پہاڑ اور اس کے ابتلاء بے کنارہ سمندر نظر آتے ہیں۔مگر جب خدا نظر آ جاتا ہے تو اسکی نگاہ میں یہ ساری چیزیں بیچ ہو جاتی ہیں۔تب ایک ہی چیز