تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 862

تذکار مہدی — Page 425

تذکار مهدی ) 425 روایات سید نا محمود بڑا شوق تھا انہوں نے اپنے لڑکوں کو قرآن پڑھانے کے لئے استاد ر کھے ہوئے تھے اور لڑکی کو بھی قرآن پڑھنے کے لئے اس کے سپرد کیا ہوا تھا۔ام طاہر بتایا کرتی تھیں کہ وہ استاد بہت مارا کرتے تھے۔اور ہماری انگلیوں میں شاخیں ڈال ڈال کر ان کو دباتے تھے مارتے تھے پیٹتے تھے اس لئے کہ ہم ٹھیک طور پر تلفظ کیوں ادا نہیں کرتے۔ہم پنجابی لوگوں کا لہجہ ہی ایسا ہے کہ ہم عربوں کی طرح عربی کے الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔لاہور میں ایک میاں چٹو رہا کرتے تھے۔وہ بعد میں چکڑالوی ہو گئے۔ان کے پاس ایک عرب آیا اور وہ اس کو لے کر قادیان پہنچے۔ان دنوں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جوان دنوں علاقہ خوست کے ایک بہت بڑے بزرگ تھے۔یہاں تک کہ امیر امان اللہ خان کے دادا حبیب اللہ خان کی رسم تاج پوشی بھی انہی سے ادا کروائی گئی تھی۔وہ بھی قادیان آئے ہوئے تھے۔وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دو تین دفعہ ض“ کا استعمال کیا آپ کا لہجہ اگر چہ درست تھا لیکن لکھنو کے آدمی جیسے اسے ادا کرتے ہیں آپ ویسے ادا نہیں کر سکتے تھے دو چار دفعہ آپ نے یہ لفظ استعمال کیا تو وہ عرب جو کئی سال سے لکھنو میں رہتا تھا اور اردو بولتا تھا اس نے کہا آپ کو کس نے مسیح موعود بنایا ہے۔آپ کو تو رض، بھی صحیح طور پر ادا کرنا نہیں آتا صاحبزادہ صاحب بڑے عالم تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ اس کی کیا حقیقت ہے۔وہ غصے میں آگئے اور اسے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھایا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے دیکھ لیا۔آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی۔آپ چونکہ پٹھان تھے اور طاقت ور تھے اور مولوی عبدالکریم صاحب اکیلے اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ آپ اسے مار بیٹھیں گے۔اب دیکھو اس عرب نے یہ کیسی لغو حرکت کی ہے۔ہر ملک کا الگ الگ لہجہ ہوتا ہے۔عرب خود کہتے ہیں کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں۔ہندوستانی اسے ادا نہیں کر سکتے ہندوستان میں ضاد کو قریب ترین ادا کرنے والوں میں سے ایک میں ہوں لیکن میں بھی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے بالکل صحیح ادا کرتا ہوں۔قریب ترین ہی ادا کرتا ہوں۔ہندوستانی لوگ اسے دواد یا ضاد پڑھتے ہیں لیکن اس کے مخارج اور ہیں۔پس جب خود عرب کہتا ہے کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں اور کوئی خود صحیح طور پر ادا نہیں سکتا تو پھر اعتراض کی بات ہی کیا ہوئی۔(الفضل 11 اکتوبر 1961 ء جلد 50/15 نمبر 235 صفحہ 2 تا 3 )