تذکار مہدی — Page 415
6415 تذکار مهدی ) روایات سیّد نا محمود وہ اس بڑی مسجد سے پانی لے کر پہنچ جاتا۔مولوی عبد الکریم صاحب لوٹے کو ہی منہ لگا لیتے اور پانی پینا شروع کر دیتے۔ان کا پانی پینا خود اپنی ذات میں ایک بڑا خوشکن نظارہ ہوتا تھا اور جس لطف سے وہ پانی پیتے تھے۔وہ مجھے آج تک نہیں بھولتا۔وہ پانی کے بڑے بڑے گھونٹ بھرتے اور غرپ غڑپ کی آواز سنائی دیتی اور بار بار اَلْحَمْدُ لِلهِ ، اَلْحَمْدُ لِلهِ کہتے دو چار گھونٹ پی لیتے تو کہتے اَلْحَمْدُ لِلهِ ، پھر دو چار گھونٹ پیتے اور کہتے اَلْحَمْدُ لِلهِ۔غرض وہ پانی پینے میں ایسی راحت محسوس کرتے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ساری نعمتیں اس کنوئیں کے پانی میں شامل کر دی گئی ہیں۔یہ نتیجہ تھا اس قناعت کا جس کو جسم کی صحت کے متعلق قرآنی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا معیار مقرر کر لیا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا اخلاص خطبات محمود جلد 24 صفحہ 158 ) میں اس موقع پر ہائی سکول کے طلباء سے بھی کہتا ہوں کہ انہیں ایسے خیالات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔اسکول کے طلباء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑا اخلاص پایا جاتا ہے اور ان کی اخلاص بھری چٹھیاں میرے پاس آتی رہتی ہیں۔لیکن پھر بھی میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان باتوں کی نقل نہ کریں جن کا نمونہ بعض شاہدین نے دکھایا ہے۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ جامعۃ المبشرین کے بعض اساتذہ نے بھی مجھے لکھا تھا کہ شاہدین کی تنخواہیں بڑھا دی جائیں پھر دیکھیں کہ جماعت میں وقف کی کتنی رغبت پیدا ہو جاتی ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔دین کی خدمت کرنے والوں نے اپنے اپنے زمانہ میں بڑا کام کیا ہے۔لیکن سلسلہ کی طرف سے انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملا کرتی تھی۔تم حضرت خلیفہ اسی اول کی زندگی کو دیکھ لو حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو دیکھ لو ان لوگوں کو کوئی گزارہ نہیں ملتا تھا۔مگر پھر بھی انہوں نے دین کی عظیم الشان خدمت کی مولوی عبد الکریم صاحب اتنے پایہ کے عالم تھے کہ سارے ضلع سیالکوٹ میں آپ کے شاگرد پائے جاتے تھے۔مگر ان کا یہ حال تھا کہ وہ جب ہجرت کر کے قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک کمرہ میں پڑے رہتے تھے۔لنگر سے دو وقت کا کھانا آجا تا تھا اور اس پر گزارہ کرتے تھے۔کوئی تنخواہ نہیں لیتے تھے۔بعض دفعہ ان کی حالت دیکھ کر کوئی دوست انہیں کوٹ اور دوسرے کپڑے بنا دیتے اور وہ پہن لیتے۔گویا بغیر کسی تنخواہ کے ساری عمر گزارہ کرتے