تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 862

تذکار مہدی — Page 413

تذکار مهدی ) 413 روایات سید نامحمود اسی طرح اللہ تعالیٰ جہاں یہ کہتا ہے کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں۔وہاں بھی وہ آدمیوں کا ہی ذکر کرتا ہے۔جانوروں کا ذکر نہیں کرتا۔وہ ہر پکارنے والے کی پکار کو نہیں سنتا وہ صرف اس شخص کی پکار کوسنتا ہے جسے یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ پر ہی سب ذمہ داری نہیں بلکہ مجھ پر بھی کچھ ذمہ داری ہے۔مثلاً اگر کوئی کہے کہ اے خدا! فلاں کی لڑکی مجھے اُدھال کر لا دے یا فلاں کا مال مجھے دے دے یا میرے فلاں دشمن کی جان نکال دے تو خدا تعالیٰ اپنے آپ کو ان دُعاؤں کا مخاطب نہیں سمجھتا پس فرمایا فَلْيَسْتَجِيبُوانی میں ہر اس دعا کو سنتا ہوں جس کا کرنے والا پورے طور پر میرے احکام پر عمل کرے اور پھر اُسے مجھ پر پورا یقین بھی ہو۔اور جو ایسا کرتے ہیں وہ غلط دُعائیں مانگتے ہی نہیں کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ ایسی دُعائیں مانگتے تھے کہ اے خدا فلاں کا مال ظالمانہ طور پر ہمیں دیدے۔پس خدا تعالیٰ بھی یہاں انسانوں کا ذکر کرتا ہے حیوانوں کا نہیں اور فرماتا ہے کہ میں دُعائیں سنتا ہوں لیکن اس کے لئے دو شرطیں ہیں اول دُعا کرنے والا پورے طور پر میرے احکام پر عمل کرے۔دوم اسے مجھ پر یقین بھی ہو۔جب اسے مجھ پر یقین ہوگا تو اس کا اعتماد بھی دعا کی قبولیت کے لئے اکسائے گا۔( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 406-405) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا آپ سے عشق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے مولوی عبد الکریم صاحب کو خاص عشق تھا اور ایسا عشق تھا کہ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس زمانہ کو دیکھا دوسرے لوگ اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتے۔وہ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب میری عمر سولہ سترہ سال تھی اور جس زمانہ سے میں نے ان کی محبت کو شناخت کیا ہے اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی۔یعنی بچپن کی عمر تھی۔لیکن باوجود اس کے مجھ پر ایک ایسا گہرا نقش ہے کہ مولوی صاحب کی دو چیزیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں۔ایک تو ان کا پانی پینا اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی محبت۔آپ ٹھنڈا پانی بہت پسند کرتے تھے اور اسے بڑے شوق سے پیتے تھے اور پیتے وقت غٹ غٹ کی ایسی آواز آیا کرتی تھی کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کی نعمتوں کو جمع کر کے بھیج دیا ہے۔اس زمانہ میں اس مسجد اقصیٰ کے کنویں کا پانی بہت مشہور تھا۔اب تو معلوم نہیں لوگ کیوں اس کا نام نہیں لیتے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ کہتے بھئی کوئی ثواب کماؤ اور پانی لا وجب