تذکار مہدی — Page 411
تذکار مهدی ) قبولیت دعا کا راز 411 روایات سید نا محمود بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے منہ سے کوئی چھوٹا سا جملہ بھی نکل جاتا ہے تو وہ تباہ ہو جاتے ہیں یہ مضمون بڑا وسیع ہے جس کا یہ خطبہ متحمل بیان نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم نے سے کھول کر بیان کیا ہے۔پس میں اس نادان معترض سے کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر حملہ نہ کرو۔آپ اسی قسم کے نشان دکھانے آئے تھے اور ایسے بندے پیدا کرنا آپ کا ایک مقصد تھا۔جن کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بڑے بڑے انقلابات پیدا کر دے آپ نے فرمایا ہے کہ: چو پیش او بروی کار یک دعا باشد اس کا مطلب یہی ہے کہ جو کام ساری دنیا نہیں کر سکتی وہ ایک دعا سے ہو جاتا ہے۔مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کو ضرور قبول کر لیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاحبزادہ مبارک احمد فوت ہوا مولوی عبدالکریم صاحب فوت ہوئے آپ نے دعائیں بھی کیں مگر وہ فوت ہو گئے اور یہ بھی آپ کا ایک نشان ہے کیونکہ مرزا مبارک احمد صاحب کے متعلق آپ نے قبل از وقت بتا دیا تھا اور جب کوئی بات قبل از وقت کہہ دی جاتی ہے۔تو وہ نشان بن جاتی ہے۔پس نہ تو یہ ہوتا ہے کہ ہر دعا قبول ہو جاتی ہے اور نہ ہر رد ہوتی ہے۔ہاں جو دعا وہ قبول کرنے کا فیصلہ کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔اسے کوئی رد نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور ملتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے بہر حال اللہ تعالیٰ کے جو فضل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئے ان کا جاری رہنا ضروری ہے۔پیغامیوں کا یہ حق تو ہے کہ کہہ دیں۔یہ تمہارے ذریعہ جاری نہیں ہو سکتے۔مگر یہ ضروری ہے کہ وہ میرے مقابلہ پر اپنے امام یا لیڈر کو پیش کریں اور کہیں کہ اس کے ذریعہ ان فضلوں کا اظہار ہوتا ہے اور اگر واقعی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ آئندہ کے امور کے متعلق خبریں ظاہر کرے اور اس کی دعاؤں کو غیر معمولی طور پر سنے۔تو ہم مان لیں گے کہ ہم گو غلطی پر تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہے۔مگر یہ لوگ تو دروازہ ہی