تذکار مہدی — Page 401
تذکار مهدی ) 401 روایات سید نامحمود سے کر دیا گیا اور یہ تاریخ اس طرح محفوظ رہی کہ مصری صاحب کا نکاح دو اور نکاحوں سمیت اُسی دن ہو ا تھا جس دن کہ ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم کا نکاح ہوا تھا اور وہ 17 فروری تھی۔گویا اللہ تعالیٰ نے صاف کہ دیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان لو اور مصری صاحب سے نکاح نہ کردو ورنہ یہ نکاح اسے منافق بنانے کا نتیجہ پیدا کر دے گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو شاید اس زینب کے متعلق اسے سمجھا ہی نہیں اور لڑکی کے باپ نے اُلٹ نتیجہ نکالا حالانکہ خدا تعالیٰ کا منشاء اس الہام سے یہ تھا کہ اس شخص سے ایک بھاری فتنہ پیدا ہونے والا ہے اس سے زینب کی شادی نہ کرو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات مان لو۔پھر اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو یہی مشورہ دیا تھا۔چنانچہ جب مصری صاحب جماعت سے علیحدہ ہوئے ہیں تو پیر منظور محمد صاحب نے مجھے کہلا بھیجا کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کو کہا تھا کہ شیخ عبدالرحمن صاحب سے شادی نہ کی جائے مگر جب حافظ صاحب نے اس بات کو نہ مانا اور اسی جگہ لڑکی کی شادی کر دی تو مجھے سخت غصہ آیا اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا کہ حضور خدا تعالیٰ کے مامور ہیں اور خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب ماً مور ایک بات کہہ دے تو تمام مؤمنوں کو چاہئے کہ اس پر عمل کریں مگر حافظ احمد اللہ صاحب نے حضور کی نافرمانی کی ہے اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا بات تو آپ نے جو کہی ہے یہ ٹھیک ہے مگر ایسے معاملات میں میں دخل نہیں دیا کرتا۔جب یہ روایت مجھے پہنچی تو گواس روایت میں مجھے کوئی محبہ نہیں ہو سکتا تھا مگر چونکہ یہ اکیلی روایت تھی اس لئے مجھے اس بات کا فکر ہوا کہ کوئی اور گواہ بھی ہونا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ دوسرے دن کی ہی ڈاک میں مجھے ایک خط ملا جو منشی قدرت اللہ صاحب سنوری کی طرف سے تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ 1915ء میں جب میں قادیان آیا تو اُس وقت مجھے کسی دوست سے قرآن پڑھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔چنانچہ میں نے حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم سے قرآن کریم پڑھنا شروع کر دیا۔ایک دن باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اپنی لڑکی زینب کا رشتہ کسی اور شخص سے کرنے کا کہا تھا مگر انہی دنوں آپ پر یہ الہام نازل ہوا کہ لَا تَقْتُلُوا زَيْنَبَ جس سے میں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ