تذکار مہدی — Page 1
بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مظہر و مبارک حیات اپنے آقا حضرت محمد مصلی امیلی کی پاک سیرت واسوہ حسنہ کا آئینہ اور کل تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض سوانح اپنی تحریرات و ملفوظات میں بیان فرمائے جو آپ کی سیرت وسوانح کے اول مآخذ ہیں اور ان کے بعد وہ کتب ہیں جو حضور علیہ السلام کے جلیل القدر صحابہ نے رقم فرما ئیں، جنہوں نے خود اپنے محبوب امام کو محبت و عقیدت سے دیکھا اور بعد میں آنے والوں کیلئے یہ امانت سپر د تحریر کر دی۔سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر کرنے والوں کے سرخیل حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ہیں جنہوں نے سن 1900 ء میں سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اولین کتاب تصنیف فرمائی۔اس کے علاوہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب رضی اللہ عنہ، حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحب رضی اللہ عنہ کی نہایت ہی دلر با اور ایمان افروز تصنیفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک اسوہ اور سوال کا بنیادی مآخذ ہیں۔ان کے علاوہ بھی آپ کی سیرت و سوانح پر متعدد کتب لکھی جا چکی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جاتی رہیں گی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کو اس حوالہ سے یہ غیر معمولی مقام حاصل ہے کہ آپ نے اپنے مقدس باپ حضرت مسیح پاک علیہ السلام کو خلوت وجلوت میں دیکھا، سفر و حضر میں مشاہدہ کیا اور دینی و دنیوی مشاغل کی بجا آوری کے بھی چشم دید راوی ہوئے۔آپ نے سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود کے کارنامے کے علاوہ اپنے خطابات، خطبات اور دروس و مجالس عرفان میں قومِ احمد کی یہ مقدس امانت جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی وسیرت پر مشتمل ہے، احباب جماعت کے سامنے مختلف مواقع پر پیش فرمائی۔سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے