تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 862

تذکار مہدی — Page 324

تذکار مهدی ) 324 روایات سید نا محمود اسلام نے تمام بنی نوع انسان اور دنیا کی تمام مخلوقات سے بلکہ حیوانوں تک سے نیک سلوک کرنا نیکی قرار دیا ہے۔اس لئے اگر وہ احتساباً اعمال بجالاتا ہے تو اس کا ہر فعل دنیا کا بھی نیکی میں شمار ہوتا ہے۔اگر تاجر ہے تو اس کے تجارتی کاروبار نیکی ہیں۔اگر مزدور ہے تو اس کا ٹوکری ڈھونا اگر ملازم ہے تو اس کا اپنی ملازمت پر جانا اور وہاں کام کرنا۔ہر حرفہ والا جو کوئی حرفہ کرتا ہے ایک دوکاندار جو دکان کرتا ہے اس کا ہر سودا جو وہ دیتا ہے۔ایک راج جو راجگیر می کرتا ہے بلکہ ایک ایک اینٹ جو وہ لگاتا ہے۔ایک لکڑ ہارا جو کلہاڑا مارتا ہے وہ سب نیکی ہے جس کا اجر اس کو ملے گا۔بشرطیکہ وہ اپنے دنیاوی کام میں بھی خدا تعالی کی رضا کو مد نظر ر کھے۔اس طرح انسان اپنے اخلاص سے اپنے ہر ایک فعل کو نیکی بنا لیتا ہے بلکہ جو کام کہ دوسروں کے لئے عیاشی سمجھے جاتے ہیں وہ بھی اس کے لئے نیکی ہو جاتے ہیں۔صوفیاء نے ایک واقعہ لکھا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بیان فرمایا کرتے تھے اور میں نے پہلے حضرت صاحب ہی سے سنا ہے کہ ایک بزرگ روزانہ ایک تھال کھانے کا تیار کرا کر کہیں لے جایا کرتے تھے اپنی بیوی کو انہوں نے کچھ نہیں بتایا تھا کہ وہ کس کے لئے لے جاتے ہیں جس سے ان کی بیوی کو شبہ ہوا کہ شائد ان کا کسی سے ناجائز تعلق ہے۔اتفاق سے وہ بزرگ ایک دن بیمار ہو گئے انہوں نے بیوی سے کہا کہ چاول پکا کر فلاں جگہ دریا کے پار ایک بزرگ رہتے ہیں اس کے پاس لے جاؤ بیوی نے کہا کہ راستہ میں دریا ہے میں کیسے پارا تروں گی۔انہوں نے کہا کہ میرا نام لے کر دعا کرنا کہ الہی اس شخص کا تجھے واسطہ دیتی ہوں جو کبھی عورت کے پاس نہیں گیا چنانچہ وہ کھانا لے کر گئی اور دریا کے کنارے کھڑے ہوکر اسی طرح دعا کی جس کے بعد ایک کشتی آگئی وہ سوار ہو کر پار اس بزرگ کے پاس چلی گئی جب وہ چاولوں کا طباق کھا چکے تو اس بزرگ سے اس نے کہا کہ اب میں واپس کیسے جاؤں اس بزرگ نے کہا کہ تم میرا نام لے کر خدا سے دعا کرنا کہ الہی اس شخص کا میں تجھے واسطہ دیتی ہوں جس نے کبھی ایک دانہ بھی چاول کا نہیں کھایا۔چنانچہ اس نے اسی طرح دعا کی جھٹ کشتی آگئی اور سوار ہو کر گھر آ گئی اور اپنے میاں سے کہنے لگی کہ میں تو سمجھتی تھی کہ خدا سچائی سے دعائیں قبول کرتا ہے مگر آج معلوم ہوا کہ وہ جھوٹ سے زیادہ قبول کرتا ہے کیونکہ میں تمہاری بیوی ہوں اور یہ تمہارے بچے ہیں اگر عورت کے پاس تم نہیں گئے تو یہ بچے کس کے ہیں اور اس بزرگ نے بھی میرے سامنے