تذکار مہدی — Page 297
تذکار مهدی ) 297 روایات سید نا محمود لیے کوئی پھل لائے۔غالباً کیلے تھے جو انہوں نے پیش کیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھتے ہی فرمایا کہ لاؤ اور مجھے کیلا دو۔چونکہ کیلے میں بھی تھوڑی سی ترشی ہوتی ہے اور میں سارا دن دوائیں پلا پلا کر اپنے آپ کو بھی مشورہ دینے کا اہل سمجھتا تھا میں نے کہا کہ کیلا آپ کے لیے مناسب نہیں۔آپ نے فرمایا جانے دو، لاؤ کیلا۔خدا نے مجھے کہا ہے کہ اچھے ہو جاؤ گے۔اس لیے اب کسی علاج کی ضرورت نہیں۔چنانچہ واقعہ میں اس کے بعد آپ کو صحت ہو گئی۔اب دیکھو! وہی چیز جو کھانسی پیدا کرنے والی تھی اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت کھانسی نہ پیدا کر سکی اور آپ اچھے ہو گئے۔بلکہ میں نے جب زیادہ اصرار کیا تو آپ نے فرمایا جاؤ جاؤ پرے جا کر بیٹھو۔ابھی الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہوگئی۔اس لیے اب کسی علاج اور احتیاط کی ضرورت نہیں۔پس کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کا کام اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔مگر زیادہ تر ایسا ہی ہوتا ہے کہ مومن کو خود بھی دعاؤں اور جدوجہد سے کام لینا پڑتا ہے پس دعا ئیں کرو اور پہلے سے زیادہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جسم میں بیماری کا تلاش کرنا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے تاریک مکان میں سوئی تلاش کرنا۔اگر بیماری نظر آ جائے تو یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کی علامت ہوتی ہے۔پس جن دوستوں کو خوا میں آتی ہیں انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کو سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت دی ہے کہ اگر تم دعائیں کرو گے تو یہ اچھے ہو جائیں گے گویا اللہ تعالیٰ نے ان کا حوصلہ بڑھا دیا ہے اور حوصلہ بڑھ جائے تو یہ بھی بڑی اچھی بات ہوتی ہے۔حوصلہ گر جائے تو اچھے بھلے آدمی کی جان نکل جاتی ہے۔( الفضل 25 اپریل 1956ء جلد 45/10 شماره 97 صفحہ 5) لیکھرام کا واقعہ لیکھرام کا واقعہ بھی اس امر کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ چاہے تو صحت کے تمام سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا تھا کہ عید کے دوسرے دن اس کی موت ہوگی اور چھ سال کے اندر اندر۔اب چھ سال تک سال میں دو تین روز کے لئے حفاظت کے خاص طور پر سامان کر لینا۔کون سا مشکل امر ہے اور یہ اس