تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 862

تذکار مہدی — Page 289

تذکار مهدی ) 289 روایات سید نامحمود سکتے ہیں۔مثال کے طور پر میں ایک صاحب عبد الکریم نامی کا واقعہ پیش کرتا ہوں وہ قادیان میں سکول میں پڑھا کرتے تھے انہیں اتفاقاً باؤلے کتے نے کاٹ کھایا اس پر انہیں علاج کے لئے کسولی بھیجا گیا اور علاج ان کا بظاہر کامیاب رہا لیکن واپس آنے کے کچھ دن بعد انہیں بیماری کا دورہ ہو گیا جس پر کسولی تار دی گئی کہ کوئی علاج بتایا جائے؟ مگر جواب آیا: "NOTHING CAN BE DONE FOR ABDUL KARIM" افسوس ہے کہ عبدالکریم کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود کو ان کی بیماری کی اطلاع دی گئی چونکہ سلسلہ کی ابتدا تھی اور یہ صاحب بہت دور دراز سے علاقہ حیدر آباد دکن کے ایک گاؤں سے بغرض تعلیم آئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت ہمدردی پیدا ہوئی اور آپ نے ان کی شفاء کے لئے خاص طور پر دعا فرمائی اور فرمایا کہ اس قدر دور سے یہ آئے ہیں جی نہیں چاہتا کہ اس طرح ان کی موت ہو۔اس دعا کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دورہ ہو جانے کے بعد شفاء دے دی حالانکہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس قسم کے مریض کو کبھی شفا نہیں ملی۔میرے ایک عزیز ڈاکٹر ہیں انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کا واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ ہستی باری پر ایک دوسرے طالب علم سے گفتگو کر رہے تھے دوران گفتگو میں انہوں نے یہی واقعہ بطور شہادت کے پیش کیا۔اس طالب علم نے کہا کہ ایسے مریض بچ سکتے ہیں یہ کوئی عجیب بات نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اتفاقاً اسی دن کالج میں پروفیسر کا لیکچر سگ گزیدہ کی حالت پر تھا۔جب پروفیسر لیکچر کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے اس امر پر زور دینا شروع کیا کہ اس مرض کا علاج دورہ ہونے سے پہلے کرنا چاہئے اور بہت جلد اس طرف توجہ کرنی چاہئے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بات کو واضح کرانے کے لئے کہا کہ جناب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دورہ پڑ جانے کے بعد بھی مریض اچھا ہوسکتا ہے۔اس پر پروفیسر نے جھڑک کر کہا کہ کبھی نہیں جو کہتا ہے وہ بیوقوف ہے۔غرض یہ ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا ہے مگر حضرت مسیح موعود کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے میاں عبدالکریم کو شفاء دی اور وہ خدا کے فضل سے اب تک زندہ ہیں۔پس ثابت ہوا کہ اس طبعی قانون کے اوپر ایک ہستی حاکم ہے جس کے ہاتھ میں شفاء دینے کی طاقت ہے۔ہستی باری تعالے۔انوار العلوم جلد ششم صفحہ 329-328)۔