تذکار مہدی — Page 238
تذکار مهدی ) 238 روایات سید نا محمودی نے کی؟ انہوں نے کہا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے۔بچپن کی وجہ سے مجھے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی اور جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا کہ کس طرح ؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے جب مولوی محمد حسین صاحب کی تحریریں پڑھیں تو مجھے ان میں اس قدر غصہ اور دیوانگی نظر آئی کہ جب تک حقیقی خطرہ سامنے نہ ہو اس وقت تک وہ غصہ اور دیوانگی پیدا نہیں ہو سکتی۔پس میں نے اس وقت سمجھا کہ ضرور حضرت مرزا صاحب میں صداقت ہے تب میں نے در مشین وغیرہ پڑھی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ دشمن جو کہتے ہیں غلط ہے۔میں حضور کی بیعت کے لئے قادیان آیا تو اللہ تعالیٰ اس ذریعہ سے بھی شریف الطبع لوگوں کو ہدایت دیتا ہے۔(خطبات محمود جلد 14 صفحہ 71-70 ) مخلوق کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان کر رکھے ہیں احمدیت نے صداقت کو ایسے آسان رنگ میں پیش کیا ہے کہ معمولی سمجھ کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔چنانچہ ایک شخص پیرا نامی کسی سخت مرض میں مبتلا ہو کر قادیان آیا۔وہ ایک غریب آدمی تھا اُس کے وارث اُسے یہاں چھوڑ کر چلے گئے۔چھ ماہ تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محنت سے اس کا علاج کیا۔جب وہ تندرست ہو گیا تو اُس کے وارث اُس کو لینے کیلئے آئے لیکن اُس نے جانے سے انکار کر دیا اور قادیان میں ہی رہا اور وہیں فوت ہوا۔وہ بڑی موٹی سمجھ کا آدمی تھا چنانچہ مجھے بچپن کے زمانہ کا اس کا واقعہ یاد ہے کہ وہ چند پیسے لے کر مٹی کا تیل پی جاتا تھا۔قادیان میں شروع زمانہ احمدیت میں جبکہ ریل اور تار وغیرہ نہ تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُسے تار دینے کیلئے وقتاً فوقتاً بٹالہ بھیجتے تھے۔وہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو اسٹیشن پر دیکھا کرتا تھا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لوگوں کو قادیان جانے سے روکنے کیلئے ہمیشہ بٹالہ اسٹیشن پر آیا کرتے تھے اسی سلسلہ میں مولوی صاحب نے مولوی عبدالماجد صاحب بھاگلپوری پروفیسر کو بھی بٹالہ سے واپس کر دیا تھا۔یہ پروفیسر صاحب اب میرے خسر ہیں اور اکثر افسوس کیا کرتے ہیں کہ اگر میں واپس نہ جاتا تو صحابہ کا درجہ حاصل کر لیتا لیکن افسوس کہ میں واپس چلا گیا۔غرض اسی طریق پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ایک دن میاں پیرا سے کہا کہ تُو قادیان مرزے کے پاس کیوں پڑا ہے، تو نے اس کا کیا دیکھا ہے؟ اس پر پیرے نے کہا۔