تذکار مہدی — Page 156
تذکار مهدی ) 156 روایات سید نامحمود میری وفات کی غلط خبر شائع ہوئی تو ایک مخالف نے مجھے فون کیا کہ سناؤ کوئی خبر قادیان کے متعلق ہے مجھے چونکہ کئی لوگ پہلے بھی پوچھ چکے تھے اور مجھے غصہ چڑھا ہو ا تھا اس لئے میں نے اسے کہا کہ چُپ رہو مگر اس نے کہا کہ نہیں میں بدنیتی سے نہیں پوچھتا بتاؤ کیا بات ہے مگر مجھے چونکہ غصہ تھا اس لئے میں نے پھر کہا کہ چُپ رہو مگر اس نے کہا کہ خدا کے لئے بتاؤ کیا بات ہے مجھے فکر ہے اس لئے پوچھتا ہوں اور جب میں نے بتایا تو اُس نے ذرا پرے ہو کر کہا جس کی مجھے آواز آئی کہ الْحَمْدُ لِلهِ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفوں کے دلوں میں بھی ہماری قدر ہے ہم کبھی یہ خیال بھی نہ کرو کہ ظلم کامیاب ہو سکتا ہے۔اگر چہ اس وقت ہمیں بدنام کیا جا رہا ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ یہ ہمیں دیتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ سب کچھ کیوں نہیں دیتے مگر جب انہیں معلوم ہوگا کہ رحم اور انصاف کی کیا حدود ہیں تو ضرور نادم ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو ہندو ،سکھ ، غیر احمدی سب رو رہے تھے حالانکہ زندگی میں یہی لوگ آپ کو گالیاں دیا کرتے تھے۔میں نے اس وقت جماعت کو ایک گر بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو بھی ہدایت نہیں دیتا اس لئے اپنے اعمال میں ظلم مت پیدا ہونے دو۔اپنے رویہ میں نرمی رکھو۔اللہ تعالی دولت دے تو تمہارے اندر انکسار پیدا ہو، علم سے تواضع پیدا ہو اور وہ تمہیں جتنا اونچا کرے اُسی قدر جھکو اور کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے اس کے بندوں کو فائدہ پہنچاؤ۔بادشاہ کی دولت رعایا کے لئے ہوتی ہے اور ملک کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ ہم تمہیں جو کچھ دیں گے بادشاہ کر کے دیں گے تائم دوسروں کو فائدہ پہنچاؤ، قدوسیت اس واسطے دیں گے کہ دوسروں کو پاک کرو، عزیز بنائیں گے تا دوسروں کو بڑا کر و عزیز اسے بھی کہتے ہیں جو دوسروں کو ذلیل نہ کرے، ہم تمہیں حکمت دیں گے مگر اس لئے کہ دوسروں کو سکھاؤ۔جس پانی کا نکلنے کا رستہ نہ ہو وہ سڑ جاتا ہے۔پس ہم تمہیں علم دیں گے لیکن اگر اس سے دوسروں کو فائدہ نہ پہنچاؤ گے تو یہ سٹڑ کر تمہارے دماغ میں تعفن پیدا کر دے گا۔“ مخالفوں سے احسان کا سلوک خطبات محمود جلد 16 صفحہ 168 تا 170 ) | ایک دفعہ ایک افسر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک معاملہ میں کہا کہ یہ لوگ آپ کے شہری ہیں آپ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کریں تو حضرت صاحب نے فرمایا۔اس