تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 862

تذکار مہدی — Page 139

تذکار مهدی ) 139 روایات سید نا محمود گیا تھا جب مجھے ابھی یہ بھی پتہ نہ تھا کہ خلافت کیا چیز ہوتی ہے۔جب مجھے اس بات کا بھی علم نہ تھا کہ خلافت کے مقام پر ایک زمانہ میں مجھے کھڑا کیا جائے گا، جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زندہ تھے اور میری عمر پندرہ سولہ سال کی تھی ، مجھے اُس وقت ہی بتا دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک ایسے مقام پر کھڑا کرے گا جس کی لوگ سخت مخالفت کریں گے مگر قیامت تک میرے ماننے والے میرے منکروں پر غالب رہیں گے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے کہا اور نہایت ہی زور دار الفاظ میں فرمایا کہ إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وہ لوگ جو تیری اتباع کریں گے وہ تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں مجھے یہ الہام ہوا تھا اور اُس وقت میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہے کیونکہ میں نہیں سمجھ سکتا تھا کہ لوگ میری مخالفت کریں گے اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے مخالفوں اور موافقوں کے گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے مگر آج میں سمجھتا ہوں دوسرے الہاموں اور کشوف اور رؤیا کی وجہ سے اور ان حالات کی وجہ سے جو میرے پیش آرہے ہیں کہ یہ الہام میرے متعلق ہے۔خدا تعالیٰ نے مجھے ایسے مقام پر کھڑا کیا کہ دنیا اس کی مخالفت کے لئے آ گئی۔بیرونی مخالف بھی مخالفت کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور منافق بھی اپنے سروں کو اُٹھا کر یہ سمجھنے لگ گئے کہ اب ان کی کامیابی کا وقت آ گیا لیکن میں ان سب کو حضرت نوح کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ جاؤ اور تم سب کے سب مل جاؤ اور سب مل کر اور اکٹھے ہو کر مجھ پر حملہ کرو اور تم مجھے کوئی ڈھیل نہ دو اور مجھے تباہ کرنے اور مٹانے کے لئے متحد ہو جاؤ پھر بھی یادرکھو خدا تمہیں ذلیل اور رُسوا کرے گا، تمہیں شکست پر شکست دے گا اور وہ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب کرے گا۔میں اپنی مشکلات کو سمجھتا ہوں، میں بلاؤں اور آفات کو سمجھتا ہوں، میں راستہ کے مصائب اور بھیا نک نظاروں کو سمجھتا ہوں مگر میں جانتا ہوں کہ جس کام کو میں نے اپنے سامنے رکھا ہے اس جیسا عظیم الشان کام اپنے سامنے رکھنے کے بعد انسان کے لئے دو ہی راستے ہوتے ہیں یا تو فتح کا جھنڈا اُڑاتا ہوا گھر کو کوٹے یا اسی کوشش میں اپنی جان اپنے خدا کے سپر د کر دے اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں جسے وہ قبول کر سکے اور میں نے بھی سوچ کر اور سمجھ کر اور تمام حالات کو جانتے ہوئے اپنا قدم ( خطبات محمود جلد 17 صفحہ 293 ،294) اُٹھایا ہے۔