تذکار مہدی — Page 97
تذکار مهدی ) 97 روایات سید نا محمودی سن کر ملنے آئے اور بتایا کہ ایک غیر احمدی کلرک مجھ سے عربی پڑھا کرتا تھا۔اس کا دفتر گرمیوں میں شملہ آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو سبق رہ جائے گا۔اس نے کہا ہاں مگر کیا ہوسکتا ہے۔مولوی صاحب کہنے لگے اگر میں شملہ آ جاؤں تو پڑھا کرو گے؟ اس نے کہا ہاں ضرور پڑھوں گا۔چنانچہ آپ اپنے خرچ پر شملہ آ گئے محض اس خیال سے کہ انگریزی خوانوں میں عربی کا شوق پیدا ہو۔اس وقت ان کی عمر ستر برس کے قریب تھی مگر ادب اور عشق کا یہ حال تھا کہ میں جہاں جاتا برابر ساتھ جاتے۔سیر کے وقت بھی ساتھ رہتے۔میری عمر اس وقت سترہ سال کی قریب تھی اور دوسرے دوست بھی جو سیر وغیرہ میں شریک ہوتے عام طور پر نوجوان تھے۔سیر کے وقت دل چاہتا کہ آگے جائیں ، مگر اس خیال سے کہ مولوی صاحب بوڑھے ہیں واپس آ جاتے۔میں نے دوستوں سے کہا کہ سیر کو چپکے سے چلا کریں جب مولوی صاحب باہر ہوں۔چنانچہ اگلے روز جب مولوی صاحب باہر تھے، ہم چپکے سے دوسرے دروازے سے نکل گئے، مگر تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ دیکھا سامنے پہاڑ پر سے مولوی صاحب ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے اور بڑے بڑے ڈگ بھرتے ہوئے آ رہے ہیں۔آتے ہی کہنے لگے واہ جی آپ لوگ مجھے چھوڑ آئے۔ہم نے کہا ہم تو آپ کی تکلیف کے خیال سے چھوڑ آئے تھے۔کہنے لگے بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحبزادے آئیں اور میں ہم رکاب نہ رہوں۔خطبات محمود جلد 15 صفحہ 178-177) دیوار بنا کر مسجد مبارک کا راستہ روکے جانا مجھے یاد ہے لالہ شرمپت رائے ایک آریہ تھے جو حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے دوستوں میں سے تھے انہیں ایک زخم آ گیا۔قادیان میں ایک نو مسلم ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب تھے۔جو علاج معالجہ کرتے تھے۔لالہ شرمیت بھی انہی سے علاج کراوتے رہے، جس کی وجہ سے انہیں افاقہ بھی ہوا۔مگر بعد میں انہوں نے علاج کرانا ترک کر دیا۔اس پر ڈاکٹر صاحب کو خدا تعالیٰ نے خواب دکھائی کہ لالہ شرمیت کے پاس فیس کے لئے روپیہ نہیں۔اس لئے وہ آتے ہوئے شرماتا ہے چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے لالہ شرمیت کو بلایا اور کہا، آپ مجھ سے با قاعدہ علاج کرا ئیں میں آپ سے کوئی فیس نہیں لوں گا چنانچہ انہوں نے پھر علاج کرانا شروع کر دیا اور اس کے نتیجہ میں وہ زخم بالکل درست ہو گیا تو دیکھو یہ خواب خدا تعالیٰ نے ہی دکھائی تھی۔