تذکار مہدی — Page 70
تذکار مهدی ) 70 روایات سید نامحمود کچھ عرصہ کے بعد ان نو مسلموں نے کہا کہ پتہ نہیں آپ کب جائیں گے آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم قادیان ہو آئیں۔اِس پر اُنہوں نے اِن نو مسلموں کو قادیان آنے کی اجازت دے دی۔وہ قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کے لیے نکلے تو وہ باہر کھڑے ہوئے تھے۔غالباً وہ 9 آدمی تھے اُن میں سے ہر ایک نے ایک ایک اشرفی پیش کی کیونکہ اُن کے پیر نے کہا تھا کہ تم دادا پیر کے پاس جا رہے ہو میں تمہیں اس شرط پر جانے کی اجازت دیتا ہوں کہ تم دادا پیر کے سامنے سونا پیش کرو۔چنانچہ انہوں نے ذکر کیا کہ ہمارے پیر نے ہمیں اس شرط پر آنے کی اجازت دی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک آدمی آپ کی خدمت میں سونا پیش کرے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وہ سیر کو چلے گئے۔جب سیر سے واپس آئے تو چونکہ اُن کو حقہ پینے کی عادت تھی اس لئے وہ حقہ پینے کے لئے مرزا امام الدین کے پاس چلے گئے۔وہ حقہ پینے کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ مرزا امام الدین نے کہنا شروع کیا۔انسان کو کام وہ کرنا چاہیئے جس سے اُسے کوئی فائدہ ہو تم جو اتنی دُور سے پیدل سفر کر کے آئے ہو ( کیونکہ اُن کے پیر کا حکم تھا کہ تم چونکہ دادا پیر کے پاس جا رہے ہو اس لئے پیدل جانا ہوگا ) بتاؤ تمہیں یہاں آنے سے کیا فائدہ ہوا؟ ایمان انسان کو عقل بھی دے دیتا ہے بلکہ عقل کو تیز کر دیتا ہے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُن میں سے ایک نو مسلم کہنے لگا کہ ہم پڑھے لکھے تو ہیں نہیں اور نہ ہی کوئی علمی جواب جانتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ آپ کو بھلے مانس مرید ملے نہیں اس لئے آپ چوہڑوں کے پیر بن گئے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا ملا؟ آپ مرزا صاحب کی مخالفت کر کے مرزا سے چوہڑے بن گئے اور ہم مرزا صاحب کو مان کر چوہڑوں سے مرزا ہو گئے۔لوگ ہمیں مرزائی ، مرزائی کہتے ہیں یہ کتنا بڑا فائدہ ہے جو ہمیں حاصل ہوا۔اب دیکھو یہ کیسی مشابہت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں کی باتوں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رشتہ داروں کی باتوں میں۔مرزا علی شیر صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سالے اور مرز افضل احمد صاحب کے خسر تھے۔اُنہیں لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جانے سے روکنے کا بڑا شوق تھا۔رستہ میں ایک بڑی لمبی تسبیح لے کر بیٹھ جاتے تسبیح کے دانے پھیر تے رہتے اور منہ سے گالیاں دیتے چلے جاتے۔بڑا لٹیرا ہے لوگوں کو لوٹنے کے لئے دُکان کھول رکھی ہے بہشتی مقبرہ کی سڑک پر دار الضعفاء کے پاس بیٹھے رہتے۔اُس وقت یہ تمام زمین زیر کاشت