رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 46
46 46 آنحضرت ﷺ کی زندگی میں تو کل کا مضمون ایک عجیب ایمان افروز مضمون ہے جو ہمیشہ جاری و ساری نظر آتا ہے۔ایک بلند منزل کے بعد اس سے بلند تر منزل پر بھی یہی عنوان نظر آتا ہے اور یہ سلسلہ کہیں ختم نہیں ہوتا۔غزوہ احد میں ستر صحابہ نے شہادت کا مرتبہ پایا اور قریباً سب صحابہ زخمی حالت میں مدینہ کو واپس لوٹے۔حتی کہ رسول پاک ﷺ بھی اس غزوہ میں شدید زخمی ہوئے۔آپ کے چار دندان مبارک شہید ہوئے اور جسدِ اطہر پر بھی کئی زخم آئے۔ایسی حالت میں عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ فوری طور پر کوئی اور مہم در پیش نہیں ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر دنیا کو نبی پاک ﷺ کے تو کل اور جرات کا ایک اور نمونہ دکھانا چاہتی تھی! الله ہوا یہ کہ قریش مکہ جب واپس جارہے تھے تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم تو حقیقت میں خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں۔مسلمانوں کی شان و شوکت بھی اسی طرح قائم اور ان کے سرکردہ افراد بھی موجود ہیں لہذا ہمیں واپس جا کر ان کو مکمل طور پر تباہ کر دینا چاہیئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ کفار مکہ کی واپس جاتی ہوئی فوج راستہ میں ہی رک گئی اور مدینہ پر دوبارہ حملہ کا ارادہ کرنے لگے۔رسول پاک ﷺ کو اگلی صبح ہی مدینہ میں لشکر قریش کے ان عزائم کی اطلاع مل گئی۔یہ ایسا وقت تھا کہ مسلمان شہدائے احد کے صدمہ سے نڈھال، زخموں سے چور اور جسمانی کمزوری کی حالت میں تھے۔خود رسول خدا ﷺ سخت زخمی حالت میں تھے لیکن ایسی کمزوری کی حالت میں جب آپ کو کفار مکہ کے ارادہ کی اطلاع ملی تو آپ نے ایک ایسا فیصلہ فرمایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں کسی جگہ نہیں ملتی۔