رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 44
فرمایا: 44 نہیں، ہمیں ان کی مدد کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں۔ہمارا مددگار تو ہمارا خدا ہے اور وہی ہماری مدد کے لیے بہت کافی ہے۔“ ☆ (سيرة ابن هشام غزوه احد ذكر انخذال المنافقين الجزء الثالث صفحه ۶) غزوہ احد میں ایک مرحلہ پر چند مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے عارضی اور وقتی ہزیمت کی صورت پیدا ہوگئی۔ابتداء کفار مکہ شکست کھا کر اور سخت نقصان اٹھا کر میدان سے بھاگ نکلے تھے لیکن خالد بن ولید نے درہ کو خالی پا کر بھاگتی ہوئی فوج کو منظم کیا اور اچانک اس شدت سے مسلمانوں پر حملہ کر دیا کہ وہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گئے۔افراتفری کا ایسا عالم تھا کہ متعدد صحابہ اس معرکہ میں کام آئے۔خود رسول کریم ﷺ بھی شدید زخمی ہو گئے اور بے ہوش ہو کر ان صحابہ کی لاشوں پر جا گرے جو آپ کے اردگر داڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے تھے۔اس کے بعد کچھ اور صحابہ نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس طرح رسول خدا ﷺ کا جسم مبارک صحا بہ کی لاشوں کے نیچے دب کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔دشمن یہ سمجھ کر کہ اس نے اپنا مقصود حاصل کر لیا ہے ذرا پیچھے ہٹا تو صحابہ کرام غیر معمولی جذ به فدائیت کے ساتھ شمع کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہو گئے۔تھوڑی دیر میں آپ کو ہوش آ گیا اور آپ جانثار صحابہ کے جلو میں پہاڑ کے دامن میں چلے گئے اور باقی صحابہ بھی وہاں جمع ہونے لگے۔رئیس مکہ ابو سفیان کو یقین تھا کہ رسول پاک ﷺ اور نامور صحابہ شہید ہو چکے ہیں اور اس الله نے میدان جیت لیا ہے۔اس خیال سے اس نے رسول پاک ﷺ حضرت ابو بکر اور حضرت