رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 10
ابتدائیہ 10 اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے حد کرم اور اس عاجز کی بے انتہا خوش قسمتی اور سعادت ہے کہ عشاق اسلام کے اس مقدس عالمگیر اجتماع میں مجھے ایک ایسے موضوع پر کچھ عرض کرنے کی توفیق مل رہی ہے جو ہر مومن کی روح کی غذا ہے۔سرور کائنات حضرت محمد مصطفے ﷺ کی بابرکت سیرت کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس پر جتنا بھی کہا جائے ، کبھی بھی موضوع کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔بیان کرنے والے کے دل کی حسرت پوری نہیں ہوتی اور سننے والوں کے دل بھی اس زندگی بخش تذکرہ سے کبھی سیر نہیں ہوتے۔سیرت النبی ﷺ کا موضوع واقعی کیسا دلر با موضوع ہے۔ایک طرف دلوں اور روحوں کو سیراب کرتا ہے تو دوسری طرف ان کی تشنگی کو مزید بڑھا تا چلا جاتا ہے۔آج اس عاجز کو سیرت النبی ﷺ کے جس پہلو پر کچھ عرض کرنا ہے وہ تو کل علی اللہ ہے۔تو کل کا حقیقی مفہوم تو کل ایک عربی لفظ ہے جس کے لفظی معنی سپر د کر نے کے ہیں۔اللہ تعالیٰ پر تو کل کرنے سے یہ مراد ہے کہ انسان اپنے آپ کو کلیتہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اپنے نفس کو اس کے آستانہ پر ڈال دے۔تو کل کے مضمون میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اور مہیا کردہ اسباب وقوانین کو اختیار کرے لیکن اس اعتدال کے ساتھ کہ نہ تو کلیتہ اسباب کا بندہ بن کر رہ جائے اور نہ یہ ہو کہ رعایتِ اسباب کو بالکل