رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 43 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 43

43 ” خدا کے نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر انہیں اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے“ (سيرة ابن هشام غزوة احد ذكر روء يا رسول الله و مشاورته القوم الجزء الثالث صفحہ ۵) آپ کا یہ ارشاد آپ کے تو کل علی اللہ کا پر شوکت اظہار ہے جو آیت کریمہ فاذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلُ عَلَى الله (ال عمران آیت 160) کے عین مطابق تھا۔چنانچہ آپ اپنے ایک ہزار صحابہ کی فوج لیکر احد کے میدان میں نکل آئے تا کہ مدینہ سے باہر ہی دشمن کو روک لیا جائے۔کفار مکہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار تھی۔اور اسلحہ وغیرہ کے لحاظ سے بھی انہیں مسلمان فوج پر برتری حاصل تھی۔اس پر مستزاد یہ کہ جنگ سے قبل رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی ابن سلول نے غداری کی اور اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ اسلامی لشکر سے علیحدہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ تو کوئی لڑائی نہیں بلکہ کھلم کھلا اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیلنے والی بات ہے۔اب مسلمانوں کی تعداد صرف ۷۰۰ رہ گئی۔اِس کمزوری کی حالت میں جسے مسلمان پہلے ہی خوب محسوس کر رہے تھے عبداللہ بن ابی کے تین سو آدمیوں کی غداری سے بعض کمزور دل مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو گیا لیکن ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی عالی کے عزم و استقلال میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا۔آپ کا بھروسہ کبھی بھی لشکر کی تعداد یا سامانِ حرب پر نہ تھا بلکہ صرف اور صرف خدا پر تھا۔آپ نے اس نازک امتحان کے وقت بھی تو کل علی اللہ کے علم کو بڑی شان کے ساتھ سر بلند رکھا۔بعض صحابہ نے عرض بھی کیا کہ یا رسول اللہ ! یہودیوں میں سے جو لوگ ہمارے حلیف ہیں اور حمایتی ہیں کیا ہم اس موقعہ پر معاہدہ کی شرط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان یہودیوں سے مدد نہ لے لیں؟ آپ نے نہایت جلال اور تو کل سے