رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 42 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 42

42 آپ لیٹے ہوئے تھے ، کوئی ساتھی اور محافظ پاس نہ تھا، تلوار آپ کے سر پر لہرا رہی تھی۔اس حالت میں تو بڑے بڑے بہادروں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔لیکن جرات واستقامت اور توکل علی اللہ کی شان دیکھئے کہ آپ نے نہایت پرسکون اور پر اعتما دانداز میں فرمایا اللہ یہ پر شوکت لفظ سن کر دشمن پر کپکپی طاری ہوگئی۔تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔آپ اٹھے، تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور حملہ آور سے کہا کہ اب تم بتاؤ کہ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ بے چارہ اس قدر مبہوت ہوا کہ آپ کے قدموں میں گر گیا۔آپ نے اسے آزاد فر ما دیا۔ایسا تو کل، ایسی حجرات اور ایسا عفو تو اس انسان نے کبھی ساری زندگی نہ دیکھا ہوگا۔اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ واپس اپنے ساتھیوں کو جا کر کہنے لگا کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا کا بہترین انسان ہے! کتنی سچی بات ہے جو اس دیہاتی کی زبان پر جاری ہوئی (بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع محمدی آئیے اب ذرا احد کے تاریخی میدان میں چلتے ہیں جہاں سرور کائنات حضرت محمد مصطفے ﷺ کی شان تو کل کے روح پرور نظارے آج بھی جگمگاتے نظر آتے ہیں۔بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے کفار مکہ بھر پور تیاری کے ساتھ مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔آنحضور کی اپنی رائے اور صحابہ کا مشورہ تھا کہ مدینہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے لیکن بعض دیگر صحابہ اور نو جوانوں نے باہر نکل کر لڑنے کا مشورہ بڑے زور سے دیا۔اس پر حضور نے باہر جا کر مقابلہ کا فیصلہ فرمایا۔آپ تیار ہوکر نکلے تو صحابہ نے عرض کیا کہ ہم نے اپنی رائے پر اصرار میں غلطی کی ہے حضور جو بھی فیصلہ فرما ئیں وہی بابرکت ہوگا۔اس موقعہ پر رسول پاک ﷺ نے فرمایا: