رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 37 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 37

37 وقت اپنے مولیٰ کی یاد میں مصروف رہتے ، ہاتھ کا موں میں مصروف ہوتے اور دل خدا کی یاد سے آباد رہتا۔عسر و یسر میں آپ کی آنکھ اسی خدا کی طرف اٹھتی جس پر آپ کا سارا تو کل تھا۔یہ کیفیت اسی کو نصیب ہو سکتی ہے جو تو کل علی اللہ کے حقیقی مفہوم سے خوب آشنا ہو ، جس کی نظر میں بس خدا ہی خدا ہو، جو اپنا سب کچھ راہ خدا میں فدا کر کے بس اسی کا ہو چکا ہو۔لا ریب یہی کیفیت ہمارے آقا و مولیٰ ، رسول خدا ﷺ کی تھی۔غزوات النبی میں تو کل علی اللہ پیارے آقا حضرت محمد مصطفے ﷺ کی زندگی کے کسی باب کو کھول کر دیکھ لیں، ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور اسکی نصرت پر کامل بھروسہ نظر آتا ہے۔بطور مثال غزوات پر ایک نظر کرنے سے یہ ایمان افروز منظر سامنے آتا ہے کہ میدان جنگ میں جہاں وسائل کی کمی ، ہر طرف سے خطرات کی یلغار اور غیر یقینی کیفیت ہوتی تھی وہاں پر بھی ہمارے ہادی کامل محمد عربی ﷺ نے تو کل علی اللہ کے ایسے ایسے نمونے دکھائے ہیں کہ تاریخ عالم میں ان کی نظیر دکھائی نہیں دیتی۔چند واقعات بطور نمونہ پیش کرتا ہوں غزوہ بدر کفر و اسلام کا وہ عظیم معرکہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مبین سے نوازا۔ایک ہزار مسلح اور تجربہ کار سپاہیوں کے مقابل پر تین سو تیرہ نسبتے اور ناتجربہ کار مسلمانوں کو لیکر میدان مقابلہ میں اترنے کا فیصلہ ہی حضور ﷺ کے تو کل کو ظاہر کرتا ہے۔بظاہر دنیا کی نظر میں یہ فیصلہ خود کوموت کے منہ میں دھکیلنے والی ☆