رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 55 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 55

55 میں نہیں ہوا۔وہ دل تو اللہ کے یقین سے پر تھا۔ایسا مطہر دل تھا جہاں خدائی نور اور سکینت کا بسیرا تھا۔آپ نے اپنے یار غار کوتسلی دیتے ہوئے فرمایا: لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ( ۹ :۴۰) کہ اے میرے حبیب ! میری محبت میں اپنی جان کو ہلکان کرنے والے ! تم کچھ فکر نہ کرو اور نہ گھبراؤ یقیناً خدا ہم دونوں کے ساتھ ہے۔اس بات کا بھی غم نہ کرو کہ ہم دو ہیں نہیں ، ہم تین ہیں۔ہمارا قادر و توانا خدا ہمارے ساتھ ہے۔اس کے ساتھ ہوتے ہوئے پھر ڈرنے کی کیا بات ہے! کتنی عظمت اور رفعت ہے اس تو کل علی اللہ میں کہ ہمالیہ کی چوٹیاں بھی اس کے مقابل کو تاہ نظر آتی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس خطرناک حالت اور اس میں آپ کے تو کل علی اللہ کی عظمت کا کیا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔آپ فرماتے ہیں : اللہ اللہ کیا توکل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجو دسب اسباب مخالف کے جمع ہو جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیوں کر ہوسکتا ہے۔خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟ کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دنیا میں آیا ہو؟ یہ جرات و بہادری کا سوال نہیں بلکہ تو کل کا سوال ہے، خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔اگر جرات ہی ہوتی تو آپ یہ جواب دیتے کہ خیر پکڑ لیں گے تو کیا ہوا ، ہم موت سے نہیں ڈرتے۔مگر آپ کوئی معمولی جرنیل یا میدانِ جنگ کے بہادر سپاہی نہ تھے آپ خُدا کے