رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 45
45 عمرؓ کے نام لے کر بآواز بلند یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم نے ان سب کو مار دیا ہے۔صحابہ جوار چاہتے تھے لیکن آپ نے ہر بار حکمت عملی کے تحت صحابہ کو جواب سے روک دیا۔یہ خاموشی دیکھ کر ابوسفیان نے اعل مبل أعل مبل کے نعرے لگائے ھبل بت کی جیت ہو اور اس کی شان بلند ہو کہ ہم نے اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے۔پہلے افراد کی زندگی کا سوال تھا اور آپ نے حفاظت کے خیال سے خاموش رہنے کی ہدایت فرمائی لیکن اب تو خدائے واحد کی عزت کا سوال تھا۔توحید کی غیرت نے محمد ﷺ کے قلب اطہر کو پریشان کر دیا آپ نے بڑے جوش سے صحابہ سے فرمایا کہ تم جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ! ہم کیا کہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ کہو : اللهُ عَلَى وَ اَجَل (البخارى كتاب المغازی باب غزوه احد) کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ صبل کی جیت ہوئی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی معزز ہے اور اللہ کی شان ہی سب سے بلند ہے۔صحابہ نے اس شان سے یہ نعرے لگائے کہ احد کی ساری وادی ان نعروں سے گونج اٹھی اور دشمن پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مٹھی بھر زخمی جماعت مسلمین پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکا ! اس موقعہ پر رسول پاک ﷺ کی غیر معمولی فراست اور توکل علی اللہ کی شان بڑی عظمت سے نظر آتی ہے۔جوابا نعرے لگانے کا مطلب تو اپنی زندگی کا ثبوت دینا، اپنی جگہ بتانا اور اس طرح کثیر تعدا دوالے بپھرے ہوئے دشمن کو دوبارہ حملہ کرنے کی دعوت دینا تھا لیکن اللہ تعالی کی غیرت کی خاطر، اسی کی تائید و نصرت پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے آپ نے ایسا نمونہ دکھایا جو حالات کے تناظر میں غیر معمولی عظمت شان کا حامل ہے۔