رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 41
41 و حق واجب نہیں ہے (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۵۵-۲۵۶) اللہ! اللہ ! کیا شان ہے اس تو کل علی اللہ کی جس کا عرفان اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہادی کامل، خاتم العارفین حضرت محمد مصطفے ﷺ کو عطا فر مایا اور دیکھو کہ اسی تو کل نے بدر کے میدان میں کیسا انقلاب بر پا کر دیا۔خیمہ نبوی میں کی جانے والی انہی دعاؤں کی برکت سے کفار مکہ کو عبرت ناک شکست ہوئی اور مٹھی بھر غلامان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم معجزانہ رنگ میں عظیم الشان فتح سے سرفراز ہوئے۔☆ توکل علی اللہ کا ایک اور لطیف قرینہ رسول پاک ﷺ کے مبارک اسوہ میں یہ نظر آتا ہے کہ دنیاوی اسباب اور سہاروں کے نہ ہونے یا ہاتھ سے چلے جانے پر بھی آپ کے تو کل علی اللہ میں رتی برابر فرق نہ آتا تھا۔آپ کا سہارا اول و آخر خدا تعالیٰ تھا جس نے آپ کو یہ مدہ دے رکھا تھا اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ۔(الزمر:۳۷) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ؟ اس خدائی وعدہ کے مقابل پر دنیاوی سہاروں اور وسائل کی حقیقت پر کاہ کے برابر بھی نہ تھی۔ایک غزوہ سے واپسی کے موقع پر آرام کی غرض سے آپ ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔باقی صحابہ بھی الگ الگ آرام کر رہے تھے۔ایک دشمن آپ کی گھات میں تھا۔اس نے آپ کی تلوار جو درخت سے لٹک رہی تھی سونت لی اور آپ کو بیدار کر کے یوں للکارا کہ بتاؤ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟