تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 60 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 60

53 اس تقریب پر ایسے ایسے لوگ آئے جن کی امید نہ تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے شاہی کارروائی ہوتی ہے اور مختلف سلطنتوں کے وزراء آتے ہیں بعض کی بعد میں چٹھیاں آئیں کہ افسوس! ہم مجبوری کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے۔ایک اخبار نے مجمع کی تصویر شائع کی اور لکھا کہ افسوس! ہمارا قائم مقام شامل نہ ہو سکا مگر کارروائی شائع کی جاتی ہے۔ایک سلطنت کے نمائندے نے اس وقت مبلغ مانگے اور ایک نمائندے نے اس تحریر کا نمونہ مانگا۔حالانکہ بڑے آدمیوں کے لئے مانگنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اس نے کہا کہ مجھے دو کا پیاں دی جائیں۔ایک اپنے دوست کو دوں گا۔اور دوسری اپنے ملک کی یونیورسٹی کو۔زیگو سلافیا کے قائم مقام پر حیرت ہی طاری ہو گئی اور کہنے لگا میں بہت ہی بدقسمت ہوں کہ یہ عمر آگئی اور مذہب کے متعلق کچھ نہیں سنا۔اور آج پہلا دن ہے کہ یہ باتیں سنی ہیں۔ایک پادری تھا کہنے لگا میں بہت خوش قسمت ہوں کہ آج دین حق کے متعلق یہ بیان سُن لیا۔وہ آخر تک کھڑا رہا۔گویا جس طرح خدا قلوب کو کھول دیتا ہے اس طرح کی حالت تھی۔اس کے علاوہ اخبارات نے تصاویر اور تقریر اور کتبہ اور سنگ بنیاد رکھنے کا حال بڑے زور سے شائع کیا اور پھر ان سے ترجمہ ہوکر دنیا کے ہر ملک اور ہر زبان میں ان حالات کو شہرت دی گئی۔چنانچہ دو نمونے ذیل میں درج ہیں۔