تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 39 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 39

35 ایک لاکھ پچاسی ہزار کے برابر ہے اور اس میں سے پچاس ہزار روپیہ کی قیمت کی جائداد اس وقت قادیان میں موجود ہے۔غرض جماعت کے ایک لاکھ 67 ہزار روپیہ سے اس وقت دو لاکھ پینتیس ہزار کی جائداد اور تجارت چل رہی ہے۔یہ اضافہ کچھ تو تبادلہ کی وجہ سے ہوا اور کچھ اراضی کی قیمت بڑھ جانے (بیت) کی ضرورت اس ضمن میں مسجد کے وجود اور اس کی ضرورت کے متعلق کچھ ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہ کو کہتے ہیں اور اگر چہ ایک مسلمان کے لئے ہر جگہ عبادت کرنی جائز ہے مگر مسجد وہ خاص جگہ ہے جو صرف اسی کام کے لئے مقرر کی گئی ہے اور جہاں مسلمان ہمیشہ جمع ہو کر با قاعدہ اپنی سب - بڑی عبادت یعنی نماز کو ادا کرتے ہوں۔دنیا میں سب سے پہلی عبادت گاہ یا مسجد وہ ہے جو مکہ میں ہے جسے کعبہ کہتے ہیں اور جسے سب سے پہلے انسان نے خدا تعالیٰ کے حکم سے اس کی عبادت کے لئے تعمیر کیا باقی تمام مذہبی اور قومی عبادت گاہیں جو دُنیا میں موجود ہیں اس کے بعد ہی بنی۔اغراض ہر مسجد قبلہ رخ ہوتی ہے خواہ وہ دنیا کے کسی حصہ میں ہو۔اور یہ اس امر کا اظہار ہے کہ تمام مسلمانانِ روئے زمین ایک مرکز سے وابستہ اور ایک نقطہ جمع ہیں جو خدائے قدوس کی ذات یگانہ صفات ہے۔مسجد میں سوائے خدائے تی و قیوم وحدہ لاشریک کے کسی کی عبادت نہیں ہوتی اور نہ کسی اور سے دُعا مانگی جاتی ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں صرف اسی کے نام کے ذکر کو بلند کیا جاتا ہے۔